http://www.bbc.com/urdu/

Wednesday, 14 January, 2009, 00:43 GMT 05:43 PST

’اسرائیل فلسطینی بچوں کی حفاظت سے لاپروا‘

غزہ پر اسرائیلی حملے کے انیسویں دن غزہ شہر کے مضافات سے اسرائیلی فوجیوں اور حماس کے کارکنوں کی دوبدو لڑائی کی اطلاعات ہیں جبکہ فلسطینی حکام کے مطابق اب تک اس کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو سو ستّر سے تجاوز کرگئی ہے۔

ادھر اقوام متحدہ میں بچوں کے حقوق سے متعلق کمیٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیل فلسطینی بچوں کی حفاظت کے معاملے سے لاپرواہی برت رہا ہے اور غزہ میں جاری تشدد کے نتیجے میں فلسطینی بچوں کی ایک پوری نسل سنگین نفسیاتی اور جذباتی مشکلات کا شکار ہوگی۔

غزہ: یہ جنگ کیسے بند ہو گی؟ آپ کی رائے
غزہ میں کارروائی کا اٹھارہواں دن
اسرائیل کے خلاف قرارداد منظور
غزہ: غضب کا سولہواں دن
’بیالیس فیصد مرنے والے بچے اور عورتیں‘
غزہ میں جارحیت پر شدید احتجاج

کمیٹی نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کا بالکل خیال نہیں کر رہا حالانکہ وہ اقوام متحدہ کے اس معاہدے پر دستخط کر چکا ہے جس میں ان مقامات پر حملوں کی مذمت کی گئی ہے جہاں بچوں کی موجودگی کا علم ہو۔

عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوجی غزہ شہر کے متعدد نواحی رہائشی علاقوں میں کئی سو میٹر اندر تک آ چکے ہیں اور علاقے سے شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق منگل اور بدھ کے درمیان اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں سو سے زائد مقامات پر حملے کیے جس کے دوران پچپن ایسی سرنگوں کو بھی تباہ کیا گیا جنہیں علاقے میں اسلحہ کی سمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

فلسطینی طبی عملے کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے دوران منگل کو مزید چالیس فلسطینی ہلاک ہوئے جس کے بعد ہلاک شدگان کی تعداد نو سو اکہتر تک پہنچ گئی ہے جن میں تین سو گیارہ بچے اور چھہتر عورتیں بھی شامل ہیں۔ اسی دوران چار ہزار چار سو افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم ایک فلسطینی گروپ کے مطابق ستائیس دسمبر سے شروع ہونے والے حملوں کے بعد اس اب تک نوے ہزار فلسطینی اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہو چکے ہیں۔

عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے سربراہ یعقوب گیلین برگر نے بھی منگل کو غزہ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے علاقے کا دورہ کیا تھا۔ دورے کے بعد انہوں نے اس بات پر سخت تشویش ظاہر کی کہ متاثرہ افراد تک بر وقت امداد پہنچنے نہیں دی جا رہی، اور نہ ہی امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’طبی ٹیم کی حفاظت ضروری ہے۔ یہ انتہائی اہم ہے۔ زخمی افراد کئی روز تک کیا، کئی گھنٹوں تک بھی طبی امداد کا انتظار نہیں کر سکتے۔انہیں فوراً نکالنا ہوتا ہے، فوراً امداد دینی ہوتی ہے۔یہ جلد از جلد کرنا ہوتا ہے‘۔

دیگر امدادی تنظیمیں بھی اسرائیلی فوج پر نہ صرف امدادی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے بلکہ امدادی کارکنوں کو نشانہ بنانے کا الزام بھی لگا رہی ہیں۔

ایک ایمبولینس کے ڈرائیور مروان ابو رائدا نے غزہ سے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی ایمیولنس پر اسرائیلی افواج نے فائرنگ کی ہے۔ مروان کا کہنا تھا کہ ’میں ایک مریضہ کو ہسپتال لے جا رہا تھا۔ اس کے سر میں گولی لگی تھی۔ اسرائیلی فوجیوں نے ایمبیولنس پر خوب فائرنگ کی۔ میں نے وہاں سے جلد نکلنے کی کوشش کی لیکن وہ ایمیولنس پر فائرنگ کرتے رہے‘۔

غزہ میں اسرائیلی حملوں کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں کی جانب سے جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون مشرقِ وسطٰی کے دورے کے پہلے مرحلے میں مصر پہنچ گئے ہیں۔ وہ اس دورے کے دوران اسرائیل، مصر، اردن اور شام کے رہنماؤں کے علاوہ غرب اردن میں فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کریں گے۔

حماس کے نمائندے مصری اہلکاروں سے فائربندی کے معاہدے پر بات کر رہے ہیں لیکن انہیں تجویز شدہ معاہدے پر کئی اعتراضات ہیں۔ حماس کے نائب سربراہ موسی ابو مرزق نے کہا ہے کہ ’قاہرہ کے منصوبے میں کئی خامیاں ہیں اور ترکی کا تجویز کردہ منصوبہ اس سے بہتر ہے‘۔

انہوں نے ایک بار پھر حماس کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ فائر بندی کا منصوبہ صرف اسی صورت میں انہیں منظور ہو سکتا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ سے نکل جائے، مکمل فائربندی پر عمل کیا جائے، اور تمام سرحدی راستے کھول دیے جائیں۔

تاہم اسرائیل اپنے موقف پر اڑا ہوا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جب تک حماس اپنے راکٹ حملے اور اسلحے کی سمگلنگ نہیں روکتا یہ سب نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطین کے مرکزی مذاکرات کار صائب اراکات نے بھی کہا ہے کہ تمام فلسطینیوں کو اب متحد ہو کر مصری تجویز کی حمایت کرنی چاہیے ورنہ فلسطینیوں کا قتلِ عام جاری رہے گا۔