BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 27 February, 2009, 16:07 GMT 21:07 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
بنگلہ بغاوت، شیخ حسینہ کا امتحان
 

 
 
شیخ حسینہ نے باغیوں کو یہ واضح پیغام دیا کہ ان کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں

انتخاب کے دو ماہ بعد ہی بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنے آپ کو ایک ایسے بحران میں گھرا ہوا پایا جس میں بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا تھا۔

اس ہفتے بنگلہ دیش میں سرحدی فورس بنگلہ دیش رائفلز کے سپاہیوں کی جانب سے کی جانے والی بغاوت میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافہ تو ہو رہا ہے لیکن ڈھاکہ میں بسنے والے مبصرین اس بات پر سب متفق ہیں کہ اب بھی بہت بڑے پیمانے پر خون کی ہولی کھیلے جانے کا خطرہ ٹال دیا گیا ہے۔

وزیراعظم حسینہ کو اس بات کے لیے قابلِ تحسین سمجھا جا رہا ہے کہ ماضی کے برعکس انہوں نے فوج کو صورتحال کا کنٹرول سنبھالنے نہیں دیا اور اعتماد اور حوصلے سے اس بحران کا مقابلہ کیا۔ بی بی سی بنگالی کے سربراہ صابر مصطفٰی کا بھی یہی کہنا ہے کہ’ اس بات پر قریباً ہر کوئی متفق ہے‘۔

اس بات کا ہر ممکن خدشہ تھا کہ بغاوت کے آغاز کے بعد فوج معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیتی، بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈکوارٹر پر دھاوا بول دیا جاتا اور فوج کے افسروں کی ہلاکت کا بدلہ بنگلہ دیش رائفلز کے سپاہیوں کے قتل کی صورت میں لیا جاتا۔ لیکن اگر ایسا ہوتا تو ہلاک شدگان کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوتا جتنی کہ اب ہے۔

لیکن ایسا کچھ نہ ہوا کیونکہ وزیراعظم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ فوج ان کے کنٹرول میں رہے اور یہ بحران سیاست دان ہی حل کریں۔

 بغاوت کا اندازہ نہ لگانے کی ذمہ داری کے حوالے سے زیادہ تر انگلیاں ملک کی خفیہ ایجنسیوں پر اٹھ رہی ہیں اور اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ بغاوت فرو ہونے کے بعد اب ڈائریکٹریٹ جنرل آف فورسز انٹیلیجنس، نیشنل سکیورٹی انٹیلیجنس اور پولیس کی سپیشل برانچ میں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔
 

بدھ کی رات بنگلہ دیشی عوام سے وزیراعظم شیخ حسینہ کے خطاب کو اس بحران کے خاتمے کے سلسلے میں اہم موڑ قرار دیا گیا ہے۔ اسی خطاب میں انہوں نے باغیوں کو یہ واضح پیغام دیا کہ ان کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

اور ساتھ ہی ساتھ وزیراعظم نے فوج کو بھی بتا دیا کہ وہ خود اس بحران سے نمٹنے کی کوششیں کر رہی ہیں اور وہی ہیں جو اس سے نمٹیں گی۔

یہ حقیقت انتہائی اہم ہے کہ اس بحران کا حل بنگلہ دیش کی منتخب جمہوری حکومت نے نکالا نہ کہ فوج نے جو کہ اس ملک میں طویل عرصے تک طاقتور عنصر رہی ہے۔

اس امر سے بیرونی دنیا کو یہ پیغام بھی ملا کہ اب بنگلہ دیش میں نظام ِحکومت ایک مستحکم شہری انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے اور فوج اس حکومت کو جواب دہ ہے۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جس کا اثر بیرونی سرمایہ کاروں، اقوامِ متحدہ اور امدادی ایجنسیوں پر بھی پڑے گا۔ یہ وہ تمام عناصر ہیں جو بنگلہ دیش میں اپنی موجودگی کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے باوجود اگر شیخ حسینہ کو اس بحران سے نمٹنے پر شاباش ملی ہے تو کیوں وہ اس بغاوت کے آغاز سے قبل ہی اس کا اندازہ نہیں لگا سکیں۔

زیادہ تر مبصرین کا ماننا ہے کہ وہ اس پوزیشن میں ہی نہیں تھیں۔ مبصرین کے مطابق شیخ حسینہ نے دسمبر میں ہی اقتدار سنبھالا ہے اور انہیں بنگلہ دیش رائفلز کے سپاہیوں میں موجود بےچینی کو بھانپنے کا وقت ہی نہیں مل سکا ہے۔

 اس بغاوت سے جو ایک بات کھل کر سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک کمزور فوج اور انتخابات میں شکست کے دھچکے سے اب تک سنبھل نہ پانے والی اپوزیشن کی وجہ سے شیخ حسینہ کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی ہے۔
 

ڈھاکہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جب شیخ حسینہ نے بغاوت سے چند گھنٹے قبل بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا تو انہیں جوانوں اور افسران سے ملنے بھی نہیں دیا گیا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش رائفلز کے افسران نے یہ محسوس کیا کہ اس قسم کی ملاقات صحیح ثابت نہ ہوگی اور اسی لیے اسے وزیراعظم کی مصروفیات سے نکال دیا گیا۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یہ عمل ہی بغاوت سے قبل بنگلہ دیش رائفلز کے ارکان اور سینئر فوجی افسران کے درمیان گرما گرم بحث کی وجہ بھی بنا۔ بی بی سی بنگالی کے صابر مصطفٰی کے مطابق یہی عمل اس تابوت میں ٹھکنے والی آخری کیل ثابت ہوا۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر وزیراعظم اس سارے معاملے سے بے خبر تھیں تو یہ اندازہ نہ لگانے کا ذمہ دار کون تھا کہ بغاوت ہونے والی ہے۔ اس حوالے سے زیادہ تر انگلیاں ملک کی خفیہ ایجنسیوں پر اٹھ رہی ہیں اور اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ بغاوت فرو ہونے کے بعد اب ڈائریکٹریٹ جنرل آف فورسز انٹیلیجنس، نیشنل سکیورٹی انٹیلیجنس اور پولیس کی سپیشل برانچ میں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بغاوت بنگلہ دیش رائفلز میں ممکنہ اصلاحات کی وجہ بھی بنے گی۔ ڈھاکہ میں بی بی سی کے ولی الرحمان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت ملک کی سرحدیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ ستّر ہزار سرحدی محافظین کی رہنمائی کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے‘۔

فوج کے خلاف بے چینی
 حالیہ بحران سے فوج صحیح طریقے سے عہدہ برا نہیں ہو سکی ہے اور اس حوالے سے بڑے پیمانے پر بےچینی بھی پائی جاتی ہے۔ لوگ فوج میں احتساب کے فقدان کو پسند نہیں کرتے
 
صابر مصطفٰی

اس سلسلے میں پیش کی جانے والی ایک تجویز یہ ہے کہ جب تک مستقل انتطام نہ ہو سکے اس وقت تک ایسے سابق فوجی افسروں کو جن کا حالیہ بغاوت سے کوئی لینا دینا نہیں بنگلہ دیش رائفلز کا عارضی منتظم بنا دیا جائے۔

بی بی سی کے ولی الرحمان کے مطابق’ اس امر کا فوری انتظام بھی ضروری ہے کہ بنگلہ دیش رائفلز کے افسران خود اسی رجمنٹ سے تعلق رکھتے ہوں اور یہی نہیں بلکہ مزید نان کمیشنڈ افسران کو آگے لانے کی بھی ضرورت ہے‘۔

بنگلہ دیش کی فوج بھی اس بغاوت کے نتائج سے دامن نہیں بچا سکے گی۔ بنگلہ دیش فوج کے سربراہ جلد ہی ریٹائر ہونے والے ہیں اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ ان کے جانشین کے تقرر میں سیاسی عوامل بھی کارفرما ہوں گے۔ بی بی سی بنگالی کے صابر مصطفٰی کے مطابق ’اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ فوج پر انتظامیہ کا کنٹرول موثر بنایا جائے اور ممکنہ طور پر ایک قومی سلامتی کونسل بھی تشکیل دی جائے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ’ حالیہ بحران سے فوج صحیح طریقے سے عہدہ برا نہیں ہو سکی ہے اور اس حوالے سے بڑے پیمانے پر بےچینی بھی پائی جاتی ہے۔ لوگ فوج میں احتساب کے فقدان کو پسند نہیں کرتے‘۔

تاہم اس بغاوت سے جو ایک بات کھل کر سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک کمزور فوج اور انتخابات میں شکست کے دھچکے سے اب تک سنبھل نہ پانے والی اپوزیشن کی وجہ سے شیخ حسینہ کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد