2017 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی اب کتنی؟

کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں؟

2017 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی اب کتنی ؟

1998 کے بعد سے پاکستان کی آبادی بڑھنے کی رفتار کچھ سست ہوئی ہے اسی لیے بعض حلقوں کو2017 کے نتائج دیکھ کر کچھ حیرت بھی ہوئی۔ 1981 اور 1998 کے درمیان آبادی میں اضافے کی اوسط شرح 2.69 تھی جبکہ 1998 سے 2017 کے درمیان یہ اوسط 2.4 رہی۔ 1998 میں پاکستان کی کل آبادی 13 کروڑ 24 لاکھ تھی جبکہ 2017 میں یہ بیس کروڑ 78 لاکھ ریکارڈ کی گئی۔

اب ذرا یہ اندازہ لگائیے کہ ان میں سے کتنے مرد ہیں؟

پاکستان میں مردوں کی تعداد 10 کروڑ 65 لاکھ ہے جو عورتوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہے۔

اب ذرا یہ اندازہ لگائیے کہ ان میں کتنی عورتیں ہیں ؟

پاکستان میں عورتوں کی تعداد 10 کروڑ 14 لاکھ ہے جو مردوں کی نسبت ذرا سی کم ہے یعنی ہر عورت کے مقابلے میں پاکستان میں 1.05 مرد ہیں۔ بیس سال پہلے یہ تناسب 1.08 تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو جلد یا بدیر پاکستان میں عورتیں زیادہ ہوں گی اور مرد کم۔

پاکستان کی کل آبادی میں سے کتنے شہروں میں رہتے ہیں؟

پاکستانی شہروں میں رہنے والوں کی تعداد سات کروڑ ستر لاکھ کے قریب ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں شہرے تیزی سے پھلتے، پھولتے اور پھیلتے دکھائی دیے ہیں۔ لیکن اب بھی ملک کی کل آبادی کا بڑا حصہ دیہات میں رہتا ہے۔

پاکستان کی کل آبادی میں سے کتنے دیہات میں ہیں ؟

پاکستان کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ یعنی63.6 فیصد آج بھی دیہات میں رہتا ہے جن کی تعداد 13 کروڑ 22 لاکھ بنتی ہے۔ جبکہ قریباً چالیس برس قبل یہ تناسب 71.7 تھا یعنی 6 کروڑ 5 لاکھ افراد۔ تاہم دلچسپ خبر یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں شہروں کی آبادی میں اضافے کی رفتار اب سست ہو رہی ہے۔ 1980 اور 1990 کی دہائی میں شہروں کی آبادی بڑھنے کی رفتار 3.53 فیصد جبکہ پچھلے بیس سال میں یہ شرح 2.70 رہی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ تناسب میں اس کمی کا براہ راست تعلق دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی ہے جس میں 80 اور 90 کی دہائی کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔

لاھور کی آبادی کتنی بڑھ چکی ہے؟

کراچی کے بر عکس لاھور شہر کی آبادی بڑھنے کی رفتار بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور بڑھتے بڑھتے اب1 کروڑ 12 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ یعنی 1981 کے بعد اس میں پونے چارگنا اضافہ ہو چکا ہے اور یہ اب بھی چار فیصد سالانہ سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔کراچی کے برعکس یہ رفتار 80 اور 90 کی دہائی میں نسبتاً آہستہ یعنی 3.32 فیصد تھی۔

آپ کے خیال میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی اب کتنی ہے؟

گزشتہ قریباً چار دہائیوں میں کراچی کی آبادی میں تین گنا اضافہ ہوا ہے جو اب 1 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے باوجود کچھ لوگوں کو یہ آبادی کم لگ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کراچی کی آبادی 80 اور 90 کی دہائی میں جس تیزی کے ساتھ بڑھی (3.41 فیصد) حالیہ برسوں میں اس رفتار میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور اب یہ شرح 2.49 تک گر گئی ہے۔

اسلام آباد کی آبادی کس رفتار سے بڑھ رہی ہے؟

پاکستان کا دارالحکومت آبادی بڑھنے کی رفتار میں باقی تمام شہروں پر بازی لے گیا ہے۔ اس شہر کی آبادی 80 اور 90 کی دہائی میں چھ فیصد سے ذرا کم رفتار سے بڑھیاسی لیے 1981 میں دو لاکھ کی آبادی والا یہ شہر اب دس لاکھ کا ہندسہ عبور کر چکا ہے۔

پشاور کی آبادی اب کتنی؟

پھولوں کے شہر پشاور کی آبادی پچھلے چالیس سال سے مستقل کم و بیش ساڑھے تین فیصد کی اوسط رفتار سے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اس عرصے میں اس شہر کی آبادی چار گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے جو اب 19 لاکھ 70 ہزار ہے۔

کوئٹہ کی آْبادی میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟

پاکستان کے سب سے زیادہ پسماندہ سمجھے جانے والے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی آبادی بڑھنے کی رفتار میں 80 اور نوے کی دہائی کی نسبت کمی آئی ہے۔ اس وقت یہ رفتار چار فیصد سے بھی زیادہ تھی جبکہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران اس شہر کی آبادی تین فیصد کی اوسط سے بڑھتے ہوئے 10 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔