آسیہ بی بی

پاکستان میں توہینِ مذہب

آسیہ بی بی کو ایک مشتعل ہجوم کے سامنے مارپیٹ کے بعد گرفتار کیا گیا جس نے انھیں گھسیٹ کر انھی کے گھر سے باہر نکالا تھا. اس کے بعد آسیہ بی بی کبھی اس گاؤں واپس نہیں جا سکیں۔

آسیہ بی بی جن پر توہین رسالت کا الزام لگایا گیا، دس سال کی طویل آزمائش کے بعد اب بالآخر آزاد ہیں۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گاؤں اٹاں والا میں آسیہ بی بی کا مکان

تنبیہ: اس مضمون میں جن واقعات کو بیان کیا گیا ہے وہ کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتے ہیں۔

آسیہ بی بی اپنے گھر سے کھیتوں میں کام کرنے گئیں جس گھر میں وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہتی تھیں۔ ان کا گاؤں اٹاں والا لاہور سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں واقع ہے، جہاں کھیت اور پھلوں کے باغات ہیں۔ یہ پنجاب کے زرخیز ترین علاقوں میں سےایک ہے۔

گاؤں کی اکثر خواتین کی طرح آسیہ بی بی بھی کھیت میں مزدوری کرتی تھیں۔ جون کا مہینہ تھا اور ان خواتین نے سارا دن پھل چننے کا کام کرنا تھا۔ شدید دھوپ میں کام کرنے کے بعد تھکی ہاری اور پیاسی ان خواتین نے کچھ دیر کے لیے وقفہ لیا۔ آسیہ بی بی کو کہا گیا کہ وہ قریبی کنویں سے پانی لے کر آئے۔

آسیہ بی بی

آسیہ بی بی

آسیہ نے جگ پکڑا اور پانی لینے چل پڑیں لیکن واپس آتے ہوئے انھوں نے اس میں
سے ایک گھونٹ پانی پیا اور باقی پانی اپنی مسلمان ساتھیوں کو دے دیا۔
آسیہ کی اس حرکت پر وہ سب سیخ پا ہو گئیں۔

آسیہ بی بی ایک مسیحی ہیں۔ پاکستان میں بہت سے قدامت پسند مسلمان دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ کھانا اور پینا پسند نہیں کرتے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ غیرمسلم ناپاک ہوتے ہیں۔
آسیہ کی ساتھی مزدوروں نے ان سے کہا کہ وہ ‘غلیظ’ ہیں اور اس قابل نہیں کہ ان کے ساتھ ایک ہی گلاس سے پانی پیئیں۔ اس کے بعد لڑائی شروع ہو گئی اور دونوں جانب سے شدید تلخ کلامی ہوئی۔

پانی کا وہ پمپ جہاں سے آسیہ نے پانی بھرا تھا

پانی کا وہ پمپ جہاں سے آسیہ نے پانی بھرا تھا

پانچ دن کے بعد پولیس آسیہ بی بی کے گھر گھس آئی اور ان پر الزام لگایا کہ انھوں نے پیغمبر اسلام کی توہین کی ہے۔ گھر کے باہر ایک ہجوم جمع تھا جن میں گاؤں کا مولوی بھی شامل تھا جس نے ان پر توہینِ رسالت کا الزام لگایا تھا۔ آسیہ کو گھسیٹ کر ان کے گھر سے باہر نکالا گیا۔

جس کے بعد مشتعل ہجوم نے آسیہ کو بےدریغ مارنا پیٹنا شروع کیا جبکہ وہاں پولیس موجود تھی۔ اس کے بعد انھیں گرفتار کیا گیا اور ان پر باقاعدہ توہین رسالت کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔

مقدمے کی سماعت کے دوران آسیہ بی بی نے ان الزامات سے انکار کیا مگر انھیں دو ہزار دس میں سزائے موت سنا دی گئی۔ انھوں نے اپنی زندگی کے گذشتہ نو سال جیل کی کال کوٹھڑی میں گزار دیے۔

پاکستان میں اسلام یا پیغمبرِ اسلام کی توہین کی سزا یا تو عمر قید ہے یا موت لیکن اکثر اس الزام کو ذاتی بغض و عناد اور جھگڑے نمٹانے کی غرض سے غلط طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک بار اگر کسی پر توہین کا الزام لگ جائے تو اس سے پہلے کہ ان کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع ہو وہ شخص اور اس کا خاندان زیر عتاب آ جاتا ہے۔

میری ملاقات آسیہ کے شوہر عاشق سے ایک سال قبل ایک خفیہ مقام پر ہوئی تھی۔ آسیہ کی گرفتاری کے بعد سے عاشق اور ان کے بچے مسلسل دربدر رہے ہیں۔

عاشق کہتے ہیں کہ ’اگر آپ کا ایک پیارا مرجائے تو دل کو کچھ عرصے کے بعد قرار آ جاتا ہے لیکن جب ایک ماں زندہ ہو اور اپنے بچوں سے اسے علیحدہ کر دیا جائے جس طریقے سے آسیہ کو ہم سے دور کر دیا گیا تو ہمارا درد تو نہ ختم ہونے والا ہے‘۔

عاشق مسیح اپنی بیٹی کے ہمراہ

عاشق مسیح اپنی بیٹی کے ہمراہ

برآمدے میں بیٹھ کر جب عاشق مجھے یہ سب بتا رہے تھے توان کے چہرے پر اس ساری تکلیف کو چھپانے کی کوششیں عیاں تھیں۔

ان کا کہنا تھا ’ہم لوگ مسلسل خوف میں زندگی گزار رہے ہیں ایک بےچینی اور عدم تحفظ کا احساس ہمیشہ ساتھ رہتا ہے کہ کبھی بھی ہمارے ساتھ کچھ ہوسکتا ہے۔ میں صرف بچوں کو سکول جانے کی اجازت دیتا ہوں مگر انھیں باہر کھیلنے کی اجازت نہیں ہے، ہم اپنی آزادی کھو چکے ہیں‘۔

اتنے سال عدم تحفظ اور غیر یقینی کی صورت حال کا سامنا کرنے کے باوجود عاشق نے کبھی بھی آسیہ کے بارے میں ہمت نہیں ہاری۔

انھوں نے کہا تھا ’میں نے اپنی آزادی، اپنی روزی، اپنا گھر سب کھو دیا ہے مگر میں امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کو تیار نہیں ہوں۔ میں آسیہ کی رہائی کے لیے جدوجہد کرتا رہوں گا‘۔

پھر گذشتہ سال کے اواخر میں اکتیس اکتوبر کو آسیہ کی گرفتاری کے نو سال بعد عاشق کی دعائیں بالآخر رنگ لائیں۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک کے ہزاروں قدامت پسند مسلمانوں کی توقعات کے برعکس نچلی عدالت کے فیصلے کو شواہد کی غیر موجودگی کی وجہ سے رد کرتےہوئے آسیہ بی بی کو آزاد کرنے کا حکم صادر کیا۔
اس تاریخی فیصلے کے چند گھنٹے کے اندر اندر مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور ان کا ایک ہی مطالبہ تھا آسیہ بی بی کو پھانسی دو۔

ردعمل

مسلسل تین دن تک مظاہرین نے اپنی قوم اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔

شہروں کی مرکزی شاہراہیں بلاک کردی گئیں، کاروں اور بسوں کو آگ لگائی گئی، ٹول پلازے لوٹ لیے گئے اور پولیس کے اہلکاروں پر حملے ہوئے۔ خصوصا صوبہ پنجاب میں اکثر دفاتر، کاروبار اور سکولوں کو بند کرنا پڑا کیونکہ آمدورفت ناممکن ہو گئی تھی۔

پاکستانی یہ سب دہشت کے عالم میں دیکھ رہے تھے جبکہ اس سارے منظر میں ان کی حکومت کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

سپریم کورٹ سے آسیہ بی بی کی بریت کے بعد تحریکِ لبیک کے حامیوں نے سڑکیں بند کر دیں

سپریم کورٹ سے آسیہ بی بی کی بریت کے بعد تحریکِ لبیک کے حامیوں نے سڑکیں بند کر دیں

شروع میں وزیراعظم عمران خان نے قوم سے ٹیلی ویژن پر خطاب میں مظاہرین کو خبردار کیا کہ ’ریاست سے مت ٹکرانا‘۔

لیکن تین دن کی بدنظمی اور انتشار کے بعد حکومت نے کہا کہ خون خرابے سے بچنے کے لیے وہ مظاہرین کے رہنماؤں کے ساتھ ایک معاہدہ کرے گی۔

تحریکِ لبیک کے حامی

تحریکِ لبیک کے حامی

آسیہ کی رہائی کے فورا بعد خادم حسین رضوی اور ان کی مذہبی سیاسی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان نے سوشل میڈیا پر انتشار اور تشدد پر اکسا نا شروع کر دیا۔

انھوں نے ان پیغامات میں سپریم کورٹ کے ان ججوں کے قتل کو کہا جنھوں نے آسیہ کی رہائی کا فیصلہ کیا تھا، اور فوج کے اندر لوگوں کو بغاوت پر اکسایا۔ فوج کے سربراہ کو ایک کافر قرار دیا اور کہا کہ انھوں نے اسلام ترک کر دیا ہے۔

تحریکِ لبیک کے حامی


تحریکِ لبیک کے حامی

ان پیغامات میں انھوں نے صرف اپنی سیاسی حمایت کرنے والے لوگوں کو ہی نہیں مخاطب کیا بلکہ ان کے ویڈیو کلپس اور سوشل میڈیا پر پوسٹس نے معاشرے کے مختلف طبقوں سے لوگوں کو سڑکوں پر آنے کا جواز فراہم کیا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے دن خادم رضوی کی جانب سے کی گئی ٹویٹ کا عکس

سپریم کورٹ کے فیصلے کے دن خادم رضوی کی جانب سے کی گئی ٹویٹ کا عکس

سپریم کورٹ کے فیصلے کے دن 53 سالہ خادم حسین رضوی نے ٹویٹ کی کہ آسیہ کی بریت انصاف سے انکار ہے اور اس سے نفرت پر مبنی بیانیہ بغیر کسی چیلنج کے جاری رہے گا۔ انھوں نے مغرب پر بھی الزام لگایا کہ وہ اسلام اور اس کے پیغمبر کے خلاف توہین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اپنی ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ’لوگ جان بوجھ کر توہین کا ارتکاب کرتے ہیں تاکہ وہ پیسے حاصل کریں اور انھیں مغربی ممالک میں پناہ مل سکے‘۔
۔

تحریکِ لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی

صرف چند سال قبل رضوی ایک چھوٹی سی مسجد میں امام کے طور پر کام کر رہے تھے۔ وہ سرکاری ملازم اور ایک معمولی شخص تھے مگر پھر بھی وہ اپنے متنازع خطبات کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔

خطبہ دیتے وقت رضوی اکثر سلمان تاثیر کے قاتل کی تعریفیں کیا کرتے تھے۔

تاثیر ان دو نمایاں سیاستدانوں میں سے ایک تھے جنھیں آسیہ کے ساتھ کھلم کھلا ہمدردی کے اظہار اور توہین کے قوانین کے تبدیلی کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے قتل کر دیا گیا تھا۔

سلمان تاثیر نے شیخوپورہ جیل میں آسیہ بی بی سے ملاقات بھی کی تھی

سلمان تاثیر نے شیخوپورہ جیل میں آسیہ بی بی سے ملاقات بھی کی تھی

بحیثیت گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے 2010 میں شیخوپورہ جیل میں آسیہ بی بی سے ملاقات کی تھی۔ ٹیلی ویژن پر ایک پریس کانفرنس میں تاثیر نے صدر پاکستان سے آسیہ بی بی کو معاف کرنے کی اپیل کی۔ نقاب پوش آسیہ بی بی اس پریس کانفرنس ان کی ساتھ بیٹھی تھیں۔

اس کے چند ہفتے بعد ہی جنوری میں سلمان تاثیر کو ان ہی کے سکیورٹی گارڈ نے دن دہاڑے قتل کر دیا۔ یہ سب اسلام آباد کے مرکز میں واقع مصروف کوہسار مارکیٹ میں ہوا جہاں 26 سالہ کمانڈو ممتاز حسین قادری نے گورنر کو انتہائی قریب سے 27 گولیاں ماریں۔

ممتاز قادری عدالت میں پیشی کے موقع پر

ممتاز قادری عدالت میں پیشی کے موقع پر

راتوں رات قادری لاکھوں کے لیے ہیرو بن گیا جس نے اپنے آپ کو حکام کے حوالے کر دیا اور بتایا کہ اسے تاثیر کو قتل کرنے پر کوئی شرمندگی نہیں اور یہ اس کا مذہبی فریضہ تھا۔

قادری نے پولیس حکام کو بتایا کہ ’توہین کرنے والے کی سزا صرف موت ہے‘۔

اس کے چند روز بعد قادری کے مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا مگر اسے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر جلدی نمٹایا گیا، کیونکہ قادری کے حامی سینکڑوں کی تعداد میں پیشیپر جمع ہوتے اور نعرے لگاتے اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے۔

ممتاز قادری کو موت کی سزا سنائی گئی اور دو ہزار سولہ میں پھانسی دے دی گئی۔

ممتاز قادری کا جنازہ، 2016

لوگ ممتاز قادری کی لاش لے جانے والی ایمبولینس کے گرد جمع ہیں

بالآخر خادم رضوی کو ملازمت سے ایسے خطبات کی وجہ سے برخاست کر دیا گیا جن میں انھوں نے قادری کی ایک شہید کے طور پر تعریف کی تھی۔ اس کے بعد انھوں نے سیاست کا رخ کیا اور تحریکِ لبیک پاکستان کی بنیاد رکھی۔

اس سیاسی جماعت کے قیام کے چند مہینے کے بعد ہی خادم رضوی کے حامیوں نے اسلام آباد میں داخلے کی مرکزی شاہراہ کو فیض آباد چوک کے قریب بلاک کر دیا جس کےنتیجے میں دارالحکومت 20 دن تک مفلوج رہا۔ رضوی نے حکومت پر توہین کا الزام لگایا کیونکہ ختم نبوت کے بارے میں انتخابی حلف نامے میں ایک حوالہ شامل ہونے سے رہ گیا تھا۔

اس کے بعد گذشتہ سال منعقد ہونے والے انتخابات میں اس چھوٹی سی سیاسی جماعت نے اپنے آپ کو پیغمبر اسلام کی عزت کے محافظ قرار دیا اور بیس لاکھ سے زیادہ ووٹروں کی حمایت حاصل کی۔ اس سیاسی جماعت کی انتخابی مہم کے دوران ان کے پوسٹر اور بینرز پر ممتاز قادری کی تصاویر لگائی گئیں جسے اس مشن کے شہید اور ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

خادم حسین رضوی

خادم حسین رضوی

بالآخر تحریک لبیک پاکستان کی سرکردگی میں ملک بھر میں احتجاج جاری رہنے کے تین دن بعد حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی۔ حکومت نے اس بات سے اتفاق کیاکہ وہ آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کو بدلنے اور ان کے ملک چھوڑنے پر پابندی کے مطالبے پر مبنی ایک عدالتی درخواست کی مخالفت نہیں کرے گی۔

یہ درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی جس کے بعد ہجوم منتشر ہوا اور آسیہ بی بی کو جیل سے رہا کرنے کے بعد ایک محفوظ مقام پر رکھا گیا۔

اس کے بعد بھی آسیہ بی بی کو مکمل آزادی حاصل کرنے کے لیے تین مہینے انتظار کرنا پڑا۔

ہجوم کا انصاف

سنہ 2013 میں توہین مذہب کا الزام لگا کر لاہور میں مسیحیوں کے درجنوں مکانات نذرِ آتش کیے گئے

گزشتہ تین دہائیوں پاکستان میں پیغمبر اسلام کی توہین کی سزا موت ہے مگر آج تک کسی کو اس جرم میں پھانسی نہیں دی گئی۔

پاکستان سنٹر فار سوشل جسٹس کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 1549 ایسے معلوم مقدمات ہیں جن میں پیغمبر اسلام کی توہین یا قرآن کی توہین کے سنگین الزامات لگائے گئے۔

ان میں سے 75 افراد جن پر یہ الزام لگا انھیں مقدمے کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی قتل کر دیا گیا۔ ان میں سے بہت سے پولیس کی حراست میں یا ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

ملزمان کی مذہبی شناخت 1987-2017 ذریعہ: سنٹر فار سوشل جسٹس پاکستان

ملزمان کی مذہبی شناخت 1987-2017 
ذریعہ: سنٹر فار سوشل جسٹس پاکستان

ایسا ہی ایک واقعہ لاہور سے 30 میل جنوب میں واقع چھوٹے سے قصبے کوٹ رادھاکشن میں ہوا جس کا نام ہندو دیوی، دیوتا کے نام پر ہے۔

یہ سرسبز کھیتوں والا ایک قصبہ ہے مگر ہر میل یا ڈیڑھ میل کے بعد ہر طرف آپ کو اینٹوں کے بھٹے کی چمنیاں سر اٹھائے نظر آتی ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کے ساتھ قطاراندر قطار سینکڑوں اینٹیں رکھی ہوئی ہوتی ہیں۔

انھی میں سے ایک بھٹے میں ایک مسیحی جوڑے شہزاد اور شمع مسیح کو ایک مشتعل ہجوم نے 2014 میں زندہ جلا دیا تھا۔ دونوں میاں بیوی پر توہینِ مذہب کا الزام تھا۔

مقامی صحافی رانا خالد ان واقعات کو یاد کرتے ہیں جن کے نتیجے میں یہ قتل کا واقعہ رونما ہوا۔

وہ کمرہ جہاں شہزاد اور شمع نے پناہ لی تھی

وہ کمرہ جہاں شہزاد اور شمع نے پناہ لی تھی

انھوں نے بھٹے کے قریب ایک چھوٹے سے اینٹوں سے بنے ہوئے کمرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا 'دونوں میاں بیوی کو اس کمرے میں بند کر دیا گیا تھا تاکہ انھیں ہجوم سے بچایا جا سکے'۔

خالد بتاتے ہیں کہ مقامی ملا کی سرکردگی میں اکٹھا ہونے والا یہ ہجوم اس قدر مشتعل تھا کہ اس میں سے کئی لوگ کمرے کی چھت پر چڑھ گئے۔ انھوں نے چھت پھاڑ کر دونوں میاں بیوی کو گھسیٹ کر باہر نکالا۔

خالد کے مطابق شہزاد اور شمع کو 'ڈنڈوں اور اینٹوں سے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر غصے سے بھرے گاؤں کے مرد انہیں گھسیٹ کر بھٹے کے پاس لے گئے اور انھیں اس کے اندر پھینک دیا'۔

اس وقت شمع چار مہینے کی حاملہ تھیں۔

ہجوم کو اس بات کا یقین تھا 24 گھنٹے قبل شہزاد اور شمع نے کوڑے کے ساتھ قرآن کے اوراق جلائے ہیں۔ شہزاد کے گھر والے اب بھی اس الزام سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دونوں اپنے باپ کی چند پرانی دستاویزات جلا رہے تھے۔

شمع اور شہزاد کے قتل کے الزام میں مقامی ملا سمیت پانچ افراد کو موت کی سزا سنائی گئی جبکہ آٹھ افراد کو تشدد پر اکسانے کا الزام ثابت ہونے پر دو سال قید کی سزا سنائی گئی۔

ایسا ہی ایک واقعہ لاہور سے 30 میل جنوب میں واقع چھوٹے سے قصبے کوٹ رادھاکشن میں ہوا جس کا نام ہندو دیوی، دیوتا کے نام پر ہے۔

یہ سرسبز کھیتوں والا ایک قصبہ ہے مگر ہر میل یا ڈیڑھ میل کے بعد ہر طرف آپ کو اینٹوں کے بھٹے کی چمنیاں سر اٹھائے نظر آتی ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کے ساتھ قطاراندر قطار سینکڑوں اینٹیں رکھی ہوئی ہوتی ہیں۔

انھی میں سے ایک بھٹے میں ایک مسیحی جوڑے شہزاد اور شمع مسیح کو ایک مشتعل ہجوم نے 2014 میں زندہ جلا دیا تھا۔ دونوں میاں بیوی پر توہینِ مذہب کا الزام تھا۔

مقامی صحافی رانا خالد ان واقعات کو یاد کرتے ہیں جن کے نتیجے میں یہ قتل کا واقعہ رونما ہوا۔

انھوں نے بھٹے کے قریب ایک چھوٹے سے اینٹوں سے بنے ہوئے کمرے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا 'دونوں میاں بیوی کو اس کمرے میں بند کر دیا گیا تھا تاکہ انھیں ہجوم سے بچایا جا سکے'۔

وہ کمرہ جہاں شہزاد اور شمع نے پناہ لی تھی

وہ کمرہ جہاں شہزاد اور شمع نے پناہ لی تھی

خالد بتاتے ہیں کہ مقامی ملا کی سرکردگی میں اکٹھا ہونے والا یہ ہجوم اس قدر مشتعل تھا کہ اس میں سے کئی لوگ کمرے کی چھت پر چڑھ گئے۔ انھوں نے چھت پھاڑ کر دونوں میاں بیوی کو گھسیٹ کر باہر نکالا۔

خالد کے مطابق شہزاد اور شمع کو 'ڈنڈوں اور اینٹوں سے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر غصے سے بھرے گاؤں کے مرد انہیں گھسیٹ کر بھٹے کے پاس لے گئے اور انھیں اس کے اندر پھینک دیا'۔

اس وقت شمع چار مہینے کی حاملہ تھیں۔

ہجوم کو اس بات کا یقین تھا 24 گھنٹے قبل شہزاد اور شمع نے کوڑے کے ساتھ قرآن کے اوراق جلائے ہیں۔ شہزاد کے گھر والے اب بھی اس الزام سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دونوں اپنے باپ کی چند پرانی دستاویزات جلا رہے تھے۔

شمع اور شہزاد کے قتل کے الزام میں مقامی ملا سمیت پانچ افراد کو موت کی سزا سنائی گئی جبکہ آٹھ افراد کو تشدد پر اکسانے کا الزام ثابت ہونے پر دو سال قید کی سزا سنائی گئی۔

یہ صرف مسیحی نہیں جو پاکستان کے اس متنازع قانون کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس قانون کو پاکستان کے احمدی برادری کے خلاف بھی مبینہ طور پر استعمال کیا گیا۔ احمدی برادری کو حکومت پاکستان ایک غیر مسلم مذہبی اقلیت قرار دیتی ہے۔ قانون کے مطابق احمدی عبادت گاہوں کو مسجد نہیں کہہ سکتے، قرآن نہیں پڑھ سکتے، عوامی مقامات پر اپنے مذہبی جذبات کا کسی بھی طریقے سے اظہار نہیں کر سکتے۔

اسلم جمیل (فرضی نام) ایک احمدی کسان ہیں جو جنوبی پنجاب میں 2009 میں اپنے گندم کے کھیت میں کام کر رہے تھے جب گاؤں کے چند لوگ ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ انھیں فرار ہو جانا چاہیے۔

ایک مقامی مولوی نے اسلم پر پیغمبر اسلام کی توہین کا الزام لگایا تھا اور ایک ہجوم ان کی تلاش میں تھا۔

اسلم نے گلوگیر آواز میں کہا کہ 'ملا نے مجھ پر الزام لگایا تھا کہ نعوذ باللہ میں نے چار احمدی بچوں کو بیت الخلا میں پیغمبر کا نام لکھنے کو کہا تھا'۔

اسلم جمیل

اسلم جمیل

اسلم نے رات ہونے کا انتظار کیا جس کے بعد وہ پچھلے دروازے سے فرار ہوئے مگر ابھی وہ کچھ دور ہی گئے تھے کہ انھیں احساس ہوا کہ بھاگنے سے شاید ان کی مشکلات مزید بڑھ جائیں اور وہ جائیں تو جائیں کہاں۔

اگلے دن انھوں نے مقامی تھانے جا کر خود کو قانون کے حوالے کر دیا۔

ایک خوفزدہ چہرے کے ساتھ اسلم نے بتایا کہ 'جج پر بہت دباؤ تھا اور کمرہ عدالت مولویوں سے بھرا ہوا تھا لیکن اس جج نے بہت ہمت دکھائی'۔

اسلم کے خلاف مقدمہ شواہد کی عدم موجودگی کی بنیاد پر خارج کردیا گیا۔ اسلم جب اپنے گھر واپس پہنچے تو گھر لٹ چکا تھا، ان کے مویشی چوری کر لیے گئے تھے اور انھیں پتہ تھا کہ اب ان کے لیے یہاں رہنا ممکن نہیں۔

انھوں نے کینیڈا میں پناہ کی درخواست دے دی۔ انھوں نے بتایا 'میرے خاندان کو دھمکیاں دی گئیں اور ہراساں کیا گیا، میری زندگی اور روزگار تباہ کردیا گیا، ہمیں اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنے گاؤں کو خیرباد کہنا پڑا'۔

ایسے لوگ جن کے خلاف توہین کا مقدمہ چلے اور ان پر جرم ثابت ہو جائے تو بھی بدنامی کا داغ عدالت کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے تک ان کا پیچھا کرتا ہے۔

ایک اور احمدی شکیل واجد (فرضی نام) کا کہنا ہے کہ ہجوم مقدمے کی سماعت کے دوران اکٹھے ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'نچلی عدالتوں کے جج مذہبی انتہا پسندوں کی جانب سے (بڑی عدالتوں کے ججوں کی نسبت) زیادہ دباؤ میں ہوتے ہیں جو ان مقدمات کی سماعت کے دوران بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں۔ ان ججوں کی سکیورٹی بہت ناقص ہوتی ہے اور انھیں اپنی جان کی بھی فکر کرنی ہوتی ہے'۔

توہین کا الزام ثابت ہونے کے بعد شکیل نے دو سال کی قید پنجاب کی تین سخت سکیورٹی والی جیلوں میں کاٹی۔

شکیل واجد

شکیل واجد

وہ بتاتے ہیں کہ کیسے توہین کے مجرم کو علیحدہ سخت سکیورٹی والی بیرکوں میں رکھا جاتا ہے، جن میں اکثرذہنی مریض ہوتے ہیں۔ انھیں اکثر ان کے سیل میں بند رکھا جاتا ہے اور ان کے تحفظ کے لیے انھیں دوسرے قیدیوں کے ساتھ کھانے کی اجازت نہیں ہوتی کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی انھیں زہر دے دے۔

وہ بتاتے ہیں 'راولپنڈی میں میرے ساتھ ایک یونیورسٹی پروفیسر قید تھے۔ ان کا ایک طالبعلم جنت اور جہنم کے بارے میں ان کی تشریح سے متفق نہیں تھا اور اس نے ان کے خلاف توہین کی درخواست دائر کی تھی'۔

شکیل اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انھیں ان کی آزادی واپس ملی مگر آزادی سے زیادہ اس الزام کا دھبہ دھونا چاہتے تھے۔

ان کا کہنا ہے 'پیغمبر کی توہین کرنے والے کا لیبل موت کے خوف سے بدتر ہے۔ یہ اتنا سخت الزام ہے کہ میں اس کے ساتھ مرنا نہیں چاہتا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ میرے نام سے اس الزام کا دھبہ دھلے تاکہ میرا خاندان معاشرے میں عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے'۔

سزائے موت

پاکستان کے توہینِ مذہب کے قوانین 1980 کی دہائی میں ملک میں بڑھتی ہوئی مذہبی تقسیم کے نتیجے میں مزید سخت ہوئے۔

جب 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کیا تو امریکہ نے افغانستان میں موجود اسلام پسند جنگجوؤں کی خفیہ طور پر مدد شروع کی۔ پاکستان اس معاملے میں امریکہ کا صف اول کا اتحادی تھا۔

افغان جنگ میں پاکستان کی شرکت کے بہت سے معاشی اور اقتصادی فوائد تھے مگر اس کے نتیجے میں ملک میں مذہبی جنونیت میں اضافہ ہوا۔ اس سے اگلی ایک دہائی میں بنیاد پرست گروہوں کا سیاسی اور سماجی اثر سوخ ڈرامائی طور پر بڑھا۔

پاکستان کے صدر جنرل ضیا الحق 1987

پاکستان کے صدر جنرل ضیا الحق 1987

یہ مزید نمایاں ہوئے۔ ریاست نے کھلم کھلا جنرل ضیا الحق کی قیادت میں شدید قدامت پسندانہ وہابی اسلام کی ترویج کی۔

پاکستان کو 'حقیقی معنوں میں اسلامی' ریاست بنانے کے لیے شرعی قوانین بنائے گئے اور پہلے سے بنے قوانین میں ترامیم کی گئیں۔ اسی پس منظر میں پارلیمان نے 1986 میں توہین کے قوانین کو تبدیل کیا۔

اس قانون کو تاج برطانیہ کے دور میں 1860 میں ابتدائی طور پر تشکیل دیا گیا۔ اس کا مقصد برطانیہ کے زیر انتظام انڈیا میں ہندوؤں، مسلمانوں، مسیحیوں اورسکھوں کے درمیان مذہبی تصادم کو روکنا تھا۔ قانون نے عبادت گاہوں اور مقدس اشیا کو تحفظ فراہم کیا اور مذہبی جلسوں میں خرابی پیدا کرنے، تدفین یا آخری رسومات کی جگہ کی بے حرمتی اور جان بوجھ کر کسی کے مذہبی عقائد کی توہین کرنے جیسے کاموں کو جرم قرار دیا جس کی سزا دس سال تک قید ہو سکتی تھی۔

اس کے بعد انیس سو ستائیس میں مختلف گروہوں کے درمیان سیاسی تناؤ اور کشیدگی کے دور میں اس قانون کو مزید سخت کیا گیا۔

لیکن توہین کا یہ قانون کسی مخصوص مذہب کے حق میں 1986 تک نہیں تھا جب پاکستانی پارلیمان نے اس میں نئی ترامیم کیں اور ایک نئی شق داخل کی جس نے پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز کلمات کو ایک ایسا جرم بنا دیا جس کی سزا موت یا عمرقید ہے۔

اس شق کا نام دو سو پچانوے سی رکھا گیا اور صرف ایک سیاستدان تھا جس نے اس شق کی مخالفت کی اور ان کا نام محمد حمزہ تھا جن کی عمر اب 90 برس کے قریب ہے۔

محمد حمزہ

محمد حمزہ

حمزہ اس دن کے بارے میں بتاتے ہیں جب اس شق کو پارلیمان میں زیر بحث لایا گیا۔

سنہ 1986 میں اپنی تقریر کے دوران حمزہ نے بحث کی کہ وہ سب لوگ جو سزائے موت کی تجویز منظور کروانا چاہتے ہیں۔ اس سے قبل کہ یہ قانون منظور کیا جائے ان لوگوں کی جانب سے پیش کیے گئے اسلامی حوالوں کی جید علما کی جانب سے تفصیلی چھان بین ہونی چاہیے۔

ان کا دعوی ہے کہ پارلیمان نے اس معاملے پر تفصیلی بحث کرنے سے بچ کر غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ حمزہ کا کہنا ہے 'میری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ آپ ملک کو پسند ناپسند کے نظامِ انصاف پر نہیں چلا سکتے۔ قانون کا کیا مقصد اگر وہ معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہو؟ ہماری عوام میں فراست کی کمی ہے وہ بلاوجہ مذہب کے بارے میں جذباتی ہیں۔ تو مجھے پتا تھا کہ اس قانون کا غلط استعمال ہو گا اسی لیے میں نے اس کی مخالفت کی تھی'۔

حمزہ اس دن پارلیمان میں مخالفت کی واحد آواز تھی اور دو سو پچانوے سی کو فوراً منظور کر لیا گیا۔

حمزہ اب بھی اپنی پرانے حلقے گوجرہ میں رہتے ہیں جو پنجاب کا ایک شہر ہے۔

اُسی سال یعنی دو ہزار نو میں جب آسیہ کو گرفتار کیا گیا تو گوجرہ بین الاقوامی شہ سرخیوں میں آیا جب شہر کی بڑی مسیحی آبادی پر سلسلہ وار حملے کیے گئے۔

گوجرہ میں ایک مسیحی خاتون اپنے بچے کے ہمراہ

گوجرہ میں ایک مسیحی خاتون اپنے بچے کے ہمراہ

یہ حملے ان افواہوں کے بعد ہوئے جن میں یہ کہا گیا کہ قرآن کے اوراق کی بےحرمتی کی گئی ہے جس کے بعد اسلام پسندوں کے جتھوں نے مسیحیوں کے گھروں پر حملہ کر کے انھیں لوٹا اور آگ لگا دی۔ ان حملوں میں آٹھ مسیحی زندہ جل کر ہلاک ہو گئے۔

ایک سنجیدہ آواز میں حمزہ نے ان حملوں کو یاد کیا 'وہ بہت افسوسناک دن تھا۔

الزامات بالکل بے بنیاد تھے مگر ہجوم بہت مشتعل تھا۔ انھوں نے حکام کی بات بالکل نہیں سنی جو انہیں سمجھا رہے تھے اور پھر حالات کنٹرول سے باہر ہوگئے'۔

دو مسیحی گوجرہ میں اپنے جلے ہوئے مکان میں کھڑے ہیں، 2009

دو مسیحی گوجرہ میں اپنے جلے ہوئے مکان میں کھڑے ہیں، 2009

پاکستان سینٹر فار سوشل جسٹس کے مطابق سزائے موت کے قانون کے بعد توہین کا الزام لگانے کے واقعات میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔

حمزہ کہتے ہیں 'میں بہت دل شکستہ محسوس کرتا ہوں جب طرح اس قانون کا کمزوروں کے خلاف غلط استعمال ہوتا ہے۔ مذہب ایک طاقتور سیاسی آلہ بن چکا ہے، اب ایک رحمت کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ بدقسمتی سے ایک برائی بن چکا ہے'۔

اس قانون کے ناقدین سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے خلاف تشدد جن پر توہین کا الزام لگا ہوں مقدس تعلیمات کی بنیادی سطح پر غلط تشریحات کی وجہ سے ہے۔

پاکستان میں ہزاروں بچے مدارس یا اسلامی بورڈنگ سکولوں میں بھجوائے جاتے ہیں جو کہ اکثر سرکاری سکولوں کا مفت متبادل ہیں جن پر حکومتی توجہ کا فقدان ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بہت سے مدارس اسلام کی ایک انتہائی قدامت پسندانہ تعلیم کا درس دیتے ہیں جس میں توہین کے اردگرد بنا ہوا ایک بیانیہ بار بار دہرایا جاتا ہے۔

مذہب کے پیروکاروں کے ذہنوں میں توہین سے وابستہ شرمندگی اتنی گہری ہے کہ وہ اپنے آپ کو بھی نقصان پہنچانے پر تیار ہوتے ہیں۔

سولہ برس کی عمر میں قدیر (فرضی نام) ایک عام نوجوان تھا جو ضلع اوکاڑہ کے ایک گاؤں میں رہتا تھا اور اور اپنے اکثر ہم عمر لڑکوں کی طرح کھیتی باڑی میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹایا کرتا تھا۔

پاکستان کے اکثر دیہی علاقوں میں جہاں خواندگی کا معیار بہت کم ہے قدیر اور اس کے گھر والے اکثر مذہبی معاملات میں فیصلے کروانے کے لیے اپنے مقامی امام مسجد کے پاس جاتے تھے جو اکثر حتمی فیصلہ کرنے والا ہوتا تھا۔

قدیر کے محلے کی مسجد

قدیر کے محلے کی مسجد

جنوری دو ہزار سولہ میں قدیر اپنی مسجد میں ایک مجلس میں شریک تھا اور امام مسجد نے جو اس مجلس کی سربراہی کر رہا تھا شرکائے مجلس میں جوش اور جذبہ پیدا کرنے کے لیے سوال کیا 'تم میں سے کون ہے جو پیغمبرِ اسلام کا پیروکار ہے‘۔

مجلس میں شریک افراد نے اپنے ہاتھ کھڑے کیے تقدیر جو اس دوران اونگھ رہا تھا یہ سوال نہ سن سکا۔ تو امام مسجد نے دوسرا سوال کیا 'تم میں سے کون ہے جو
محمد کی تعلیمات پر ایمان نہیں لاتا‘۔

اس پر قدیر جو مکمل طور پر بیدار نہیں تھا اس نے جلدی سے اپنا ہاتھ کھڑا کردیا جس پر کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ یہ خاموشی امام مسجد نے لڑکے کو بےعزتی کر کے توڑی اور اس پر الزام لگایا کہ اس نے پیغمبر کی توہین کی ہے۔

لڑکا اس پر بہت پریشان ہوا جب سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تو وہ مسجد میں سکون کی تلاش میں رکا رہا۔ اس نے بہت پرخلوص انداز میں کہا 'میں پیغمبر سے اپنی محبت کو ثابت کرنا چاہتا ہوں'۔

اور اپنے عقیدے کی تعظیم کے لیے لڑکے نے سوچا کہ سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ اپنا ہاتھ خود کاٹ لے۔ تو اس نے چارہ کاٹنے والی مشین میں اپنا بازو دے کر کلائی سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا۔

ٹوکہ

ٹوکہ

اس کا کہنا ہے 'درد کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میں نے تو یہ سب کچھ پیغمبر کی محبت میں کیا اللہ تعالی ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے'۔

اگلے چند دنوں میں آس پاس کے قصبوں اور دیہاتوں سے لوگ قدیر سے اظہار عقیدت اور پیغمبر کے لیے اس کی محبت کو سراہنے کے لیے آتے رہے۔

اس واقعہ کے دو سال بعد اب وہ ایک مقامی مدرسے میں اپنا زیادہ تر وقت قرآن پڑھنے میں گزارتا ہے۔

مگر وہ اب بھی اپنی بات پر قائم ہے کہ اسے اپنے کیے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ 'مجھے اس کی پروا نہیں کہ لوگ کیا کہتے ہیں یہ میرے اور پیغمبر کے درمیان ہے، آپ اسے نہیں سمجھ سکتے'۔

آزادی

Asia Bibi

لاہور ہائیکورٹ کی پرشکوہ عمارت مال روڈ پر واقع دوسری عمارتوں سے بہت بڑی دکھائی دیتی ہے۔ سرخ اینٹوں اور بڑے سفید گنبدوں سے بنی یہ عمارت شہر کے باسیوں کو ان کے نوآبادیاتی ماضی کی یاد دلاتی ہے۔

ہائیکورٹ کے اردگرد تنگ گلیوں میں کئی وکلا کے چیمبر گھٹن زدہ اور بوسیدہ کمروں میں قائم ہیں۔

ہائی کورٹ کی عمارت کے بالکل پیچھے ایک مصروف چائے خانے کے اوپر غلام مصطفی چوہدری کا چیمبر ہے۔

غلام مصطفی ختم نبوت لائرز فورم کے صدر ہیں جو ان تمام مسلمانوں کو مفت قانونی مشورے دیتے ہیں جو توہین کے کیس درج کروانا چاہتے ہیں جن کے ساتھ آٹھ سو کے قریب رضاکار وکلا ملک بھر میں کام کر رہے ہیں۔

چوہدری غلام مصطفیٰ ایڈووکیٹ

چوہدری غلام مصطفیٰ ایڈووکیٹ

وہ کہتے ہیں 'ملک بھر میں جہاں پر بھی ہمیں کسی ایسے واقعے کے بارے میں اطلاع ملتی ہے ہم درخواست گزار تک پہنچتے ہیں اور انھیں بغیر کسی معاوضے کے قانونی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ ہم یہ اللہ کی خوشنودی اور پیغمبر اسلام کی عزت کے تحفظ کے لیے کرتے ہیں اور اس میں ہمارے لیے کوئی مادی ترغیب نہیں ہے'۔

چوہدری نے یہ فورم اٹھارہ برس قبل قائم کیا جب انہوں نے بطور وکیل پریکٹس شروع کی۔ اب وہ پچاس کے پیٹے میں ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس مشن کے لیے پہلے سے زیادہ کمربستہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ توہین بہت عام ہو گئی ہے۔ صرف لاہور شہر میں توہین کے 40 کیس زیرِسماعت ہیں۔ وہ لوگ جو توہین کے مرتکب ہوتے ہیں انھیں ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے جو بہت افسوسناک ہے'۔

انھیں آسیہ بی بی کے کیس کے نتائج پر بہت دکھ ہے۔

ان کے مطابق 'اس نے پیغمبر کی توہین کی لیکن وہ مغرب کے لیے ایک ہیرو بن گئی ہے'۔

غلام مصطفیٰ چوہدری آسیہ بی بی کے خلاف مقدمے کے مدعی کے ہمراہ


غلام مصطفیٰ چوہدری آسیہ بی بی کے خلاف مقدمے کے مدعی کے ہمراہ

غلام مصطفی ممتاز قادری کے بھی وکیل تھے جنہوں نے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ توہین کا قانون 'رحمت' ہے اور ہجوم کے ہاتھوں انصاف سے بچاؤ کے لیے ایک 'ڈھال' ہے۔

وہ کہتے ہیں 'ممتاز قادری نے پولیس کو سابق گورنرکے خلاف توہین کی درخواست دینے کے لیے رجوع کیا مگر ان کی درخواست پر غور نہیں کیا گیا‘۔

ان کا کہنا ہے کہ ’وہ کبھی بھی بندوق اٹھانے پر مجبور نہ ہوتا اگر قانون پر عمل درآمد کیا جاتا'۔

آسیہ کے کیس میں قانون پر عمل درآمد کیا گیا اور ایسا ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی سطح تک ہوا لیکن فیصلے میں واضح طور پر یہ لکھے جانے کے باوجود کہ آسیہ پر جرم ثابت کرنے کے لیے شواہد موجود نہیں ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے 29 جنوری کو نظرِثانی کی اپیل مسترد کیے جانے کے بعد آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک کی میڈیا سے بات چیت

اکتیس اکتوبر کو اپنے تاریخی فیصلے میں ججوں نے لکھا 'کیسی ستم ظریفی ہے کہ اپیل کنندہ کے نام کا مطلب ہے گناہ کرنے والی مگر اس کیس کے حالات و واقعات کے مطابق وہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر سامنے آتی ہیں جیسے شیکسپیئر کے ڈرامے کنگ لیئر کے الفاظ میں 'جس کے ساتھ گناہ سے زیادہ گناہ کیے گئے ہوں'۔

اس کے باوجود حکومت نے اس بات سے اتفاق کیا کہ آسیہ بی بی کی بریت کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی ہو سکتی ہے۔ حکومت مظاہرین کو منتشر کرنا چاہتی تھی لیکن بعد میں اس نے تحریکِ لبیک پاکستان پر کریک ڈاؤن کیا۔

تحریک کے شعلہ بیان رہنما خادم حسین رضوی کو بھی پولیس نے حراست میں لیا۔ آسیہ کے خاندان کو تین سے زیادہ مہینوں کے لیے ایک خفیہ مقام پر رکھا گیا وہ عدالت کی جانب سے بری تو کر دی گئیں مگر وہ آزاد نہیں تھیں۔

آسیہ کے شوہر عاشق مسیح اپنی دونوں بیٹیوں کے ہمراہ

آسیہ کے شوہر عاشق مسیح اپنی دونوں بیٹیوں کے ہمراہ

بالآخر سپریم کورٹ نے 29 جنوری کو نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی جو چند گھنٹے چلی۔
غلام مصطفی چوہدری نے آسیہ بی بی کے کیس میں درخواست دہندہ قاری سالم کی وکالت کی اور وہ آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے میں کسی سقم کو سامنے لانے میں ناکام رہے۔

عدالت نے نظرِثانی کی درخواست مسترد کر دی اور آسیہ بی بی کو بری کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آسیہ کے خلاف گواہوں کے بیانات بےربط ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'ہم کیسے جھوٹے گواہوں کے بیانات پر کسی کو پھانسی دے دیں'۔

قاری سالم اور ان کے وکیل سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں

قاری سالم اور ان کے وکیل سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں

بادیِ النظر میں یہ بات بہت ستم ظریفانہ ہے کہ کیسے ایک کیس نے جو جھوٹے بیانات پر مبنی تھا، ملک کے سماج ک تانے بانے کو آٹھ سال تک شکستہ کیے رکھا۔
لیکن ریاست نے بالآخر اپنا آہنی بازو دکھایا اور قانون کا بول بالا ہوا۔ پیغام بہت واضح تھا کہ ہجوم پاکستان پر حکمرانی نہیں کر سکتا، اپنی بات نہیں منوا سکتا۔ اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ ملک میں توہین کے قانون کے غلط استعمال کی اجازت اب نہیں دی جائے گی۔

یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک تاریخی موڑ بھی تھا۔

مگر قانون اب بھی موجود ہے اور کسی میں ہمت نہیں کہ وہ اس میں ترمیم کرنے یا اسے منسوخ کرنے کی بات کرے۔

سلمان تاثیر اور اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کا قتل اب بھی اس قوم کے اعصاب پر سوار ہے۔

لاہور کی بادشاہی مسجد