کتنے پاکستانی بچے سکول جاتے ہیں؟

بی بی سی نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ ملک کے سرکاری سکولوں میں کتنے بچے داخل ہیں

حکومت سکول بنا دے، وہاں پانی بھی ہو، بجلی بھی ہو، دیواریں بھی ہوں مگر اگر بچے سکولوں میں ہی نہ آئیں تو کیا فائدہ؟

پاکستان میں تعلیم کے شعبے پر کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے الف اعلان نے 2014 میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے۔

گذشتہ چار برس میں صوبائی حکومتوں نے بچوں کو سکول لانےکے لیے کوششیں کیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کوششوں میں یہ حکومتیں کتنی کامیاب رہیں؟

بچوں کے سکولوں میں داخلے کے حوالے سے ماہرین نے کئی معیار بنا رکھے ہیں جن میں سے ایک معیار ’نیٹ انرولمنٹ‘ کا ہے جس میں دیکھا جاتا ہے کہ ایک خاص عمر کے بچوں کی کل آبادی کتنی ہے اور ان میں سے کتنے اپنی عمر کی مناسبت سےمتعلقہ جماعت میں زیرِ تعلیم ہیں۔

دوسرا معیار ’گروس انرولمنٹ‘ کا ہے جس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک جماعت میں ایک مخصوص عمر کے کتنے بچے ہیں اور اس علاقے کی آبادی میں اس عمر کے بچوں کی کل تعداد کیا ہے۔

اس سب کو آسانی سے سمجھنا ہو تو مثال یہ ہے کہ اگر آپ پہلی جماعت سے لےکر پانچویں جماعت تک زیرِ تعلیم، پانچ سے نو سال عمر کے بچوں کی تعداد کو آبادی میں پانچ سے نو سال عمر کے بچوں کی کل تعداد سے تقسیم کریں تو آپ کے پاس ’نیٹ انرولمنٹ ریٹ‘ آئے گا۔ دوسری جانب اگر پہلی سےپانچویں جماعت میں زیرِ تعلیم تمام بچوں کی تعداد کو آبادی میں پانچ سے نو سال عمرکے بچوں کی کل تعداد سے تقسیم کیا جائے تو آپ کو ’گروس انرولمنٹ ریٹ‘ ملے گا۔

یہ کسی ملک میں بچوں کے داخلوں کا تعین کرنے کے حتمی پیمانے نہیں ہیں اور ہم نے اپنے قارئین کے لیے معاملات آسان بنانے کی خاطر ایک سادہ پیمانہ چنا ہے۔

دنیا بھر میں سکولوں میں موجود بچوں کی مجموعی تعداد اور اس میں اضافے یا کمی کو تعلیمی شعبے میں حکومتی کارکردگی کا عکاس مانا جاتا ہے چنانچہ ہم نے یہ موازنہ کیا ہے کہ پاکستان کے ہر صوبے میں چار سال پہلے کتنے بچے سکولوں میں موجود تھے اور اب یہ تعداد کیا ہے۔

اگرچہ یہ بچوں کے سکول میں داخلے کا تعین کرنے کا حتمی پیمانہ نہیں مگر اس سے ہمیں حکومتوں کی کارکردگی کا کافی حد تک اندازہ ہو جاتا ہے۔

سنہ 14-2013 سے 17-2016 کے دوران چاروں صوبائی حکومتوں سےحاصل کردہ اعدادوشمار کا موازنہ کیا جائے تو ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ بلوچستان کے علاوہ تمام صوبوں میں سرکاری ہائر سیکنڈری سکولوں میں زیرِ تعلیم طلبا کی کل تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

حکومتِ پنجاب کے اعدادوشمار کے مطابق صوبے میں جہاں پری پرائمری اور مڈل سطح پر بچوں کی تعداد میں کمی آئی وہیں پرائمری، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری سطح بچوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔

پری پرائمری سطح پر آنے والی کمی کی شرح 3.23 فیصد تھی جبکہ مڈل سطح پر یہی شرح دو فیصد سے کم رہی۔

اگر اس اضافے کو دیکھا جائے تو تعداد میں پرائمری سطح پر ساڑھے سات فیصد، سیکنڈری سطح پر 13 فیصد جبکہ ہائر سیکنڈری سطح پر 526 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پنجاب میں ہائر سیکنڈری سکولوں میں طلبا کی تعداد 14-2013 میں 87218 تھی جو 17-2016 میں بڑھ کر 546616 تک پہنچ گئی۔

خیبر پختونخوا حکومت بظاہر بچوں کو سکولوں تک لانےکے معاملے میں دیگر صوبوں سے زیادہ کامیاب رہی ہے۔

یہاں ہائر سکینڈری سطح پر ہونے والا اضافہ ملک بھر میں سب سے زیادہ رہا ہے اور 14-2013 کے مقابلے میں 17-2016 میں اس سطح پر زیرِ تعلیم طلبا کی تعداد میں 754 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ تعداد تین لاکھ 88 ہزار تک پہنچ گئی۔

یہاں سیکنڈری سکولوں میں بچوں کی تعداد میں 14 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ پرائمری سطح پر یہ شرح چار فیصد رہی ہے۔

تاہم اس صوبے میں بھی پری پرائمری اور مڈل سطح پر طلبا کی تعداد کم ہوئی ہے اور پری پرائمری میں 46 ہزار جبکہ مڈل سکولوں میں 10ہزار کم طلبا زیرِ تعلیم ہیں۔

اس حوالے سے ایک چیز واضح کرنا اہم ہے۔ پنجاب اور کے پی میں ہائر سیکنڈری کے علاوہ دیگر سطح پر جہاں اضافہ بھی ہوا ہے وہ چند فیصد کا ہی ہے۔ اس اضافے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حکومتی کوششیں کامیاب رہی ہیں اور بچے جوق در جوق سکولوں کا رخ کرنے لگےہیں۔

سندھ میں بھی ہائر سیکنڈری سطح پر اضافے کی شرح بہت زیادہ رہی ہے اور اس میں 336 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تاہم پرائمری ہو یا مڈل یا پھر سیکنڈری ان سطحوں پر دونوں ادوار میں صوبہ سندھ میں بچوں کی تعداد میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔

پرائمری سطح پر17-2016 میں بچوں کی تعداد میں ساڑھے 39 ہزار کی کمی آئی تو مڈل سطح پر یہ کمی ساڑھے سات ہزار اور سیکنڈری سطح پرسات ہزار تین سو سے کچھ زیادہ رہی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ میں ہائر سیکنڈری کے علاوہ جس سطح پر بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے وہ پری پرائمری ہے جہاں بچوں کی تعداد ایک لاکھ 86 ہزار یا 32 فیصد کے لگ بھگ بڑھی ہے۔.

بلوچستان وہ واحد صوبہ ہے جہاں آج ہر سطح پر چار سال قبل کےمقابلے میں کم بچے زیر تعلیم ہیں۔

حکومتی اعدادوشمار کے مطابق چاہے وہ پری پرائمری ہو یا پرائمری یا پھر مڈل یا سیکنڈری یر سطح پر ہی گراف نیچے جاتا ہی دکھائی دیتا ہے۔

سب سے زیادہ کمی پری پرائمری سطح پر دیکھی جا سکتی ہے جہاں 26 فیصد کی کمی ہے یعنی 14-2013 کے مقابلے میں 17-2016 میں اس سطح پر سکولوں میں موجود بچوں کی تعداد میں 85 ہزار کی کمی آئی ہے۔

پرائمری سطح پر یہ تعداد 91 ہزار جبکہ مڈل میں17 ہزار کی ہے۔ سیکنڈری سطح پر بھی طلبا کی تعداد میں کمی ہوئی لیکن یہ پرائمری اور مڈل کے مقابلے میں کم تھی۔

بلوچستان حکومت کے اعداد و شمار میں ایک قابلِ غور چیز ہائرسیکنڈری سطح پر طلبا و طالبات کی تعداد ہے۔ اس ڈیٹا کے مطابق بلوچستان میں گیارہویں اور بارہویں جماعتوں میں سرکاری سکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کی تعداد چار سال قبل صرف181 تھی اور اب یہ تعداد کم ہو کر 120 رہ گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا پورے صوبے میں صرف 120 بچے سرکاری سکولوں سے ایف اے، ایف ایس سی کر رہے ہیں؟

تحقیق و تحریر: شجاع ملک
تصاویر: یونیسف پاکستان/سمیع ملک
ڈیٹا:حکومتِ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان
السٹریشنز: پنیت برنالہ
شارٹ ہینڈ پروڈکشن: شاداب نظمی