پاکستان کے سرکاری
سکول پانچ برس میں کتنے بدلے؟

بی بی سی اردو نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ پاکستانی سکولوں میں دستیاب سہولیات میں کتنی بہتری آئی ہے

پاکستان میں بڑی تعداد میں بچے اور بچیاں صرف اس لیے سکول نہیں جا پاتے کہ ملک کے بہت سے سکولوں میں انھیں بنیادی ضروریات جیسے کہ پانی اور ٹوائلٹ یا بیت الخلا ہی دستیاب نہیں ہیں۔

سنہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد صوبہ پنجاب میں حکومت بنانے والی مسلم لیگ ن، سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور صوبہ خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ بلوچستان کی اتحادی حکومت نے اپنےاپنے صوبے میں قائم سرکاری سکولوں میں ان سہولیات کی فراہمی کے لیے بڑی رقوم مختص کرنے کے دعوے اور وعدے کیے تھے۔
تاہم بی بی سی کی تحقیق کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے علاوہ کسی بھی صوبے میں سکولوں میں دستیاب ضروری سہولتوں میں نمایاں بہتری ریکارڈ نہیں کی گئی۔

حکومتی دعوؤں کی تصدیق کے لیے بی بی سی نے سکولوں اور تعلیم کے بارے میں ملک کے چاروں صوبوں میں ہونے والے کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا جس سے معلوم ہوا کہ گذشتہ چار سالوں میں سکولوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے صوبہِ سندھ میں حالات بہتر ہونے کے بجائے بگڑے ہیں جبکہ سب سے زیادہ بہتری خیبر پختونخوا میں آئی۔

حکومتی اعداد و شمار پر مبنی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ چند سالوں میں سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بہتری آئی ہے جبکہ بلوچستان میں بھی کچھ لحاظ سے حالات بہتر ہوئے ہیں تاہم صوبہِ سندھ کے سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کمی آئی۔

صوبہِ سندھ میں 14-2013 میں جتنے سکولوں میں بجلی میسر تھی ان کی تعداد میں گذشتہ چار برسوں میں 18 فیصد کمی ہوئی۔ اسی طرح سکولوں کی بیرونی دیوار کے حوالےسے بات کی جائے تو چار سال پہلے سندھ میں ساڑھے 27 ہزار سکولوں کی چار دیواری موجود تھی اور اب یہ تعداد کم ہو کر 26 ہزار رہ گئی ہے۔

اب یا تو حکومتِ سندھ نے اعداد و شمارجمع کرنے میں غلطی کی ہے یا پھر لوگ سکولوں سے بجلی کے میٹر اتار کر لے گئے ہیں اور دیواریں توڑ دی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ اگر پینے کے پانی کی فراہمی یا بیت الخلا میسر ہونے کی بات کی جائے تو وہاں بھی سندھ حکومت کی کارکردگی خاصی ناقص دکھائی دیتی ہے۔ سنہ 14-2013 کے مقابلے میں سندھ حکومت صرف ڈھائی فیصد مزید سکولوں میں پانی اور ڈیڑھ فیصد سکولوں میں ٹوائلٹ فراہم کر سکی ہے۔

اگر کل تعداد کے لحاظ سے دیکھیں تو سندھ حکومت نے 14-2013 سے لے کر اب تک چار سو سے بھی کم سکولوں میں بیت الخلا بنائے ہیں۔

اس کے مقابلے میں پنجاب میں سہولیات میں اضافے کے سلسلے میں تقریباً 1200 سکولوں میں پانی، چھ ہزار سے زیادہ سکولوں میں بجلی، 2200 سے زیادہ میں ٹوائلٹ کی سہولت دی گئی جبکہ تقریباً 3400 کی چار دیواری تعمیر کی گئی۔

تاہم یہ بات واضح ہے کہ پنجاب میں ابتدا میں ہی خیبر پختونخوا کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ سکولوں میں یہ سہولیات موجود تھیں۔ اسی لیے کارکردگی کا اندازہ لگانے کے لیے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اوسطاً اضافہ کس کا سب سے زیادہ ہے، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اس سلسلے میں گذشتہ چار سالوں میں سب سے زیادہ کام کیا ہے۔

گذشتہ چار سالوں میں خیبر پختونخوا میں تقریباً ساڑھے پانچ ہزار سکولوں میں پانی فراہم کیا گیا، ساڑھے سات ہزار سکولوں کو بجلی ملی، 4300 سے زیادہ سکولوں میں بیت الخلا تعمیر کیے گئے اور 4800 سے زیادہ سکولوں کی بیرونی دیوار تعمیر کی گئی۔

بلوچستان میں اگر اعداد و شمار پر غور کیا جائے تو پانی کی فراہمی میں بہت بہتری آئی ہے مگر اس کا سہرا بلوچستان حکومت کے سر سجانے سے پہلے ایک چیز پر غور ضروری ہے۔ 14-2013 میں تقریباً پانچ ہزار سے زیادہ ایسے سکول بھی تھے جنھوں نے پانی کی سہولت کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے بلوچستان میں پانی کی فراہمی میں بہتری نہیں، صرف معلومات جمع کرنے میں بہتری آئی ہے اور ایک چیز جو فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں ہے وہ یہ ہے کہ بلوچستان میں آج بھی 8937 سکول ایسے ہیں جہاں بچوں کو ٹوائلٹ کی سہولت میسر نہیں ہے۔

رپورٹر: شجاع ملک
تصاویر: سارہ فرید اور گیٹی امیجز
ڈیٹا:حکومتِ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان
السٹریشن: نکیتا دیش پانڈے
شارٹ ہینڈ پروڈکشن: شاداب نظمی