’رینٹل پاور معاہدوں میں جلد بازی کی گئی‘

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بادی النظر میں کرائے کے بجلی گھروں کے ساتھ ہونے والے معاہدے جلد بازی میں کیے گئے ہیں اور اس میں ملکی مفاد کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

پیر کو کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق از خودنوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھاکہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر کرائے کے بجلی گھروں کے مالکان کو چھ ارب روپے سے زائد کی رقم ایڈوانس میں دی گئی۔

پانی و بجلی کی وزارت کے وکیل خواجہ طارق رحیم کا کہنا تھا کہ جب حکومت نے نجی پاور کمپنیوں سے معاہدے کیے تھے اُس وقت ملک کی ریٹنگ بی پلس تھی جبکہ معاہدے ہونے کے بعد ملک کی ریٹنگ منفی سی میں چلی گئی۔ پانی وبجلی کے سابق وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اُنہوں نے کہا کہ اُن پر ان معاہدوں کے حوالے سے بہت سے الزامات لگائے گئے جن کا جواب دینا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دفاع میں جو کچھ کہنا چاہیں یہ اُن کا حق ہے۔