بون کانفرس:’خارجہ پالیسی کا ٹرننگ پوائنٹ‘

لاہور میں وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بون کانفرس کے بائیکاٹ کا فیصلہ قومی جذبات اور ملک کی خارجہ پالیسی میں ٹرننگ پوائنٹ یا اہم موڑ کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ’یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری کو یہ احساس دلایا جائے کہ پاکستان نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اس کی علاقائی سالمیت پر یکطرفہ کارروائی کے تحت حملہ کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کی حکومت قومی وقار، سلامتی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور سب سے پہلے پاکستان کی خودمختاری ہے۔‘

وزیر اطلاعات کے مطابق’ کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے اجلاس کی روشنی میں تعلقات کے ازسرنو کی حکمت کا جائزہ لے رہی ہے اور اس عمل میں تمام سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ کابینہ نے ڈی سی سی یا کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع کے فیصلوں کو پارلیمان کی سترہ رکنی کمیٹی برائے قومی سلامتی کو بھیج دیا ہے تاکہ وہ اپنی حتمی تجاویز دے۔

انھوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں وزیراعظم گیلانی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں قوم کو اعتماد میں لیں گے۔

وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے مطابق آئندہ اجلاس میں ڈی جی ملٹری آپریشن کابینہ کو بریفننگ دیں گے۔