بحرین میں سیاسی اصلاحات کا وعدہ

بحرین کے فرمانروا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی اصلاحات متعارف کروائیں گے جن سے شاہی اختیارات میں کمی اور پارلیمان کے اختیارات میں اضافہ ہوگا۔

ملک گیر نشریات میں کیے گئے اس اعلان میں کہا گیا کہ یہ اصلاحات حال ہی میں سول اور سیاسی گروپوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں پیش کردہ تجاویز پر مبنی ہیں۔

ان اصلاحات کو گزشتہ چند ماہ سے جاری شیعہ اکثریت کی جانب سے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا ردِ عمل کہا جا سکتا ہے۔ ان مظاہروں میں پینتیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شیعہ گروہ چاہتے ہیں کہ ریاست میں ان کا اثر بڑھے تاہم بحرین میں اب تک سنی مسلک کا اثر و رسوخ رہا ہے۔ نامہ نگاروں کا مزید کہنا ہے کہ مرکزی شیعہ گروہ ان اصلاحات سے مطمئن نہیں ہونگے۔