’جب ادارے غیرفعال، عدلیہ فعال‘

کراچی میں گزشتہ روز تین وکلاء کے قتل کے خلاف سندھ بھر میں وکلاء تنظیموں کی جانب سے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا گیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاج اور بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

کراچی میں عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے بعد کراچی سٹی کورٹس اور ہائی کورٹ میں وکلاء کے احتجاجی اجتماعات بھی منعقد کیے گئے ہیں۔ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر یاسین آزاد نے حکومت کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے تین روز کی مہلت دی ہے جس کے بعد ملک بھر کے وکلاء کا کنونشن طلب کر کے لائحہ عمل مرتب کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس مجلسِ عاملہ میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مشیر عالم نے بھی شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ پر غیرذمہ دارانہ ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے دائرۂ کار میں رہ کر کام نہیں کرتی حالانکہ عدلیہ اس وقت فعال ہوتی ہے جب ادارے ناکام اور غیر فعال ہوتے ہیں۔