ہلاک شدگان کا پوسٹ مارٹم لازمی

حکومتِ پنجاب نے مفت ملنے والی سرکاری ادویات کے استعمال کے بعد ہلاک ہونے والوں مریضوں کا پوسٹ مارٹم لازمی قرار دے دیا ہے۔

حکومتی فیصلے کے بعد ہسپتالوں کی انتظامیہ نے دوائی کے استعمال کی وجہ سے ہلاک ہونے والے مریضوں کی لاشیں ان کے ورثا کے حوالے کرنے کی بجائے پولیس کی تحویل میں دینا شروع کر دی ہیں۔

پنجاب میں اب تک کم از کم ایک سو آٹھ افراد ایک پراسرار بیماری کاشکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ بیماری صرف دل کے ان مریضوں کو لاحق ہوئی جنہوں نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں علاج کروایا تھا اور مفت دوا حاصل کی تھی۔

پنجاب حکومت کے احکامات کے بعد ہلاک شدگان کے پوسٹ مارٹم کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے اور حکومت نے سینیئر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک میڈیکل بورڈ بھی شکیل دیا ہے اور پوسٹ مارٹم کے لیے اس میڈیکل بورڈ کی اجازت ضروری ہے۔