آئینی ترمیم کے لیے بامقصد مذاکرات: نواز

مسلم لیگ نون کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر حکومت الیکشن کمشن کے قیام پر ان سے بامقصد اور معنی خیز مذاکرات نہیں کرے گی تو بیسویں آئینی ترمیم پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوسکے گا۔ یہ بات انہوں نے بہاولپور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

مسلم لیگ نون کے صدر نواز شریف نے کہا کہ بیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے جو مشاورت ہو رہی ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے بقول مشاورت کا مطلب یہ نہیں کہ حزب مخالف کو محض ایک خط لکھ دیا جائے۔ نواز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے پچھلے چار سال کے دوران مشاورت کو ایک مذاق نہ بنا دیا ہوتا تو شائد مسلم لیگ نون کی طرف سے یہ مطالبہ بھی سامنے نہ آتا۔

این آر او کا راستہ انہوں نے روکا ہے اور اب میمو گیٹ پر آج بھی ان کا موقف وہی ہے جو پہلے دن تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ میموگیٹ میں جتنے بھی کردار ہیں جنہوں نے پاکستان، اس کی افواج اور ایٹمی اثاثوں کے خلاف سازش کی ہے وہ قوم کے سامنے آنے چاہیئں۔ نواز شریف نے کہا کہ ان پر شک کیا جا رہا تھا کہ وہ ملک میں سینٹ کے انتخابات رکوانے کہ لیے ماحول خراب کر رہے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔

ان کے بقول ملک کا ماحول حکومت نے خراب کیا ہے اور اگر سینٹ کے انتخابات متاثر ہوں گے تو حکومت کی وجہ سے ہوں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ وہ سینٹ کے الیکشن کے حق میں ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ ہر طرح کے الیکشن ہوں اور جلد ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ بہاولپور کو صوبہ بننا چاہیے کیونکہ اس مطالبہ کے بنیاد لسانیت نہیں ہے بلکہ یہ بہاولپور کے لوگوں کا حق ہے۔

اسی بارے میں