بیسویں آئینی ترمیم سینیٹ سے بھی منظور

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ نے بیسویں آئینی ترمیم کا منظوری دے دی ہے۔ اب یہ بل صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے پاس دستخط کے لیے جائے گا۔

یہ آئینی ترمیم صدرِ پاکستان کے دستخط کے بعد آئین کا حصہ بن جائے گی۔

آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان سے اس ترمیم کی منظوری تاریخ ساز کارنامہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم کے بعد شفاف اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنا دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ چودہ فروری کو قومی اسمبلی پہلے ہی اس ترمیم کو منظور کر چکی ہے۔

بیسویں ترمیم کے ذریعے آئین کی چھ شقوں میں ترمیم اور ایک نئی شق شامل کی گئی ہے جس کے مطابق الیکشن کمیشن کے ہر صوبے سے چار اراکین اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پارلیمانی کمیٹی کرے گی، ان کی مدت ملازمت پانچ برس ہوگی اور سب کا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی طرح حلف ہوگا۔ ترمیم کے مطابق کمیشن کے اراکین کو ہٹانے کا طریقہ کار بھی ججوں کی طرح کا ہی ہوگا۔