کرائے کے بجلی گھر غیر قانونی قرار، بندش کا حکم

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ان بجلی گھروں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ توانائی کے سابق وزیر پرویز اشرف سمیت اُن تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے جو بدعنوانی میں ملوث ہیں۔

عدالت نے کہا پبلک سیکٹترز پاوور جنریشن کمپنیز جن میں جینکوز، پاکستان الیکٹرک پاوور کمپنی( پپیپکو)، واٹر اینڈ پاوو ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( واپڈا)، نیشنل الیکٹرک پاوور ریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) اور وفاقی حکومت تمام اربوں رپے کی بدعنوانی کے ذمہ دار ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں سے متعلق پالیسی شفافیت پر متعین نہیں کی گئی تھی۔