گیاری آپریشن: ’لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ‘

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سیاچن کے گیاری سیکٹر میں جاری امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے آنے والی جرمن اور سوئس ٹیمیں واپس اپنے ملک چلی گئی ہیں۔

منگل کو فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق دونوں ٹیموں نے پاکستان فوج کی پہلے سے نشاہدہی کیے جانے والے مقامات کی تصدیق کی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی دوران امریکہ اور ناروے کی ٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مدد کے لیے گیاری پہنچ چکی ہیں۔

تلاش اور امدادی آپریشن پوری رفتار سے چوبیس گھنٹے جاری ہے جبکہ علاقے میں درجہ حرات میں اضافے سے لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات میں اضافہ ہو گیا ہے تاہم اس صورتحال سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

گیاری میں کھودی گئی سرنگ کو تھوڑا سا وسیع کیا گیا ہے تاہم سرنگ میں زہریلی گیسوں کی مودجوگی سے کھدائی کا کام متاثر ہوا۔

بیان کے مطابق ماہرین کی جانب سے نشاندہی کیے جانے والے دیگر مقامات پر تیزی سے کام جاری ہے اور اس میں تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

سیاچن کے گیاری سیکٹر میں رواں ماہ کی سات تاریخ کو پاکستان فوج کے ایک مرکز پر برفانی تودہ گرنے سے ایک سو اٹھائیس فوجی اہلکار اور گیارہ سویلین تودے تلے دب گئے تھے۔ ان کی تلاش کا کام جاری ہے۔