’عہدہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا‘

سپریم کورٹ کی جانب سے توہین عدالت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرنے کے بعد وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ انہیں غیر آئینی طریقے سے اپنا عہدہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ منصفانہ ٹرائل کے لیے تمام طریقے استعمال کریں گے اور آئین کے آرٹیکل دس کے تحت شفاف ٹرائل ان کا حق ہے۔

’میری اقتدار میں رہنے کی کوئی خواہش نہیں ہے لیکن میں اس معاملے کو اختتام تک پہچانے کے لیے تمام موجود طریقے استعمال کروں گا۔

پاکستان سے برطانیہ سفر کے دوران طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین میں وزیراعظم کو ہٹانے کا واضح طریقہ کا موجود ہے اور کوئی وزیراعظم کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور نہیں کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ لیگ نون انہیں ہٹانے میں سنجیدہ ہے تو وہ پارلیمان سے مستعفیٰ ہوں۔

حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ نون کی جانب سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کے اعلان پر وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ پنجاب وفاق کی اکائی ہے اور اسے وفاقی اکائی ہونے کی حیثیت سے وفاقی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور اگر تحریک چلائی جاتی ہے تو بغاوت کے زمرے میں آئے گی۔

گزشتہ ماہ سپریم کورٹ کی جانب مختصر فیصلے کے بعد وزیر اعظم کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اپیل دائر کریں گے۔

اس سے پہلے منگل کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں دی جانے والی سزا سے متعلق تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ این آر او یعنی قومی مفاہمتی آرڈیننس سے متعلق عدالتی فیصلے کا جان بوجھ کر تمسخر اڑایا گیا۔

تفصیلی فیصلے میں ایک مرتبہ پھر آئین کے آرٹیکل تریسٹھ ون جی کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس میں درج ہے کہ عدلیہ کا تمسخر اڑانے پر کوئی بھی رکنِ پارلیمان پانچ سال کے لیے نااہل ہوسکتا ہے۔