’الزامات ثابت ہوئے تو کارروائی ہوگی‘

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے بیٹے پر بدعنوانی کے الزامات کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اگر ان کے بیٹے پر لگائے گئے الزامات ثابت ہوتے ہیں تو انہیں قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

چیف جسٹس نے پاکستانی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ان خبروں کا از خود نوٹس لیا تھا جن میں ان کے بیٹے ارسلان افتخار پر کاروباری شخصیت ملک ریاض سے کروڑوں روپے کا فائدہ حاصل کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

اس از خود نوٹس کی سماعت سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کر رہا ہے جس میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس عارف خلجی اور جسٹس جواد ایس خواجہ شامل ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق بدھ کو جب اس معاملے سماعت شروع ہوئی تو ارسلان افتخار تو عدالت میں حاضر ہوئے تاہم اس معاملے کی دوسری اہم شخصیت ملک ریاض کے پرسنل سٹاف افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملک ریاض برطانیہ میں زیرِ علاج ہیں اس لیے پیش نہیں ہو سکتے۔