’برطانویوں کے دہشتگردوں سے روابط‘

برطانیہ میں خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کا کہنا ہے کہ برطانوی شہریوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد دہشتگردی کی تربیت کے لیے عرب ممالک جا رہی ہے۔

ایجنسی کے سربراہ جونیتھن ایونز نے بتایا کہ حالیہ اندازوں کے مطابق برطانیہ میں مقیم تقریباً دو سو افراد کے اس وقت عرب ممالک میں موجود مسلح گرہوں سے تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عرب دنیا میں حال ہی میں آنے والے ’عرب سپرنگ‘ نامی انقلاب کے بعد ان ممالک میں القاعدہ کے لیے ماحول بہتر ہو گیا ہے۔

پیر کی شب کو دیے گئے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ لندن میں ہونے والی اولمپک گیمز دہشتگردوں کے لیے ایک ’پسندیدہ‘ نشانہ ہوں گی تاہم کسی بھی خطرے سے نمٹے کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

ایم آئی فائیو کے چیف نے اُن ’سائبر‘ حملوں کا بھی ذکر کیا جن کو دہشتگرد تنظیموں کے علاوہ ریاستی پزیرائی بھی ملتی رہی ہے۔

انہوں نے اولمپک مقابلوں اور ان کے بعد کے لیے سیکورٹی اقدامات کا ایک تفصیلی پلان بھی پیش کیا۔