این آر او کیس: مہلت کی استدعا، فیصلہ کچھ دیر میں

پاکستان کی سپریم کورٹ کو اٹارنی جنرل عرفان قادر نے بتایا ہے کہ این آر او پر عملدرآمد کے مقدمے میں وزیر اعظم وزارتِ قانون اور کابینہ کی مشاورت سے فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بات اٹارنی جنرل نے قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او پر عملدرآمد کے مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ کو بتائی۔

پانچ رکنی بینچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کر رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سوئس حکام کو خط لکھنے کے بارے میں حال ہی میں ہوئے کابینہ کے اجلاس میں مشاورت ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے پر وزارتِ قانون سے رجوع کیا جائے۔

اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ وزارتِ قانون وفاقی کابینہ کو اس حوالے سے مشورہ دے گی اور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف وزارتِ قانون اور کابینہ کسے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت سے استدعا کی کہ وزیر اور سیکریٹری قانون اپنے عہدوں پر نئے ہیں اس لیے مہلت دی جائے اور مقدمے کی سماعت عدالت کی موسمِ گرما کی تعطیلات کے بعد کی جائے۔

تاہم عدالت نے کہا کہ مہلت دینے کے حوالے سے فیصلہ آج دوپہر ساڑھے تین بجے سنایا جائے گا۔