توہین عدالت:’نئے قانون کی وجہ نہیں بتائی‘

پاکستان میں توہین عدالت کے نئے قانون کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں اس قانون پر بحث کے دوران آئین کی شقوں کو مدنظر نہیں رکھا گیا اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ اس قانون کو لانے کی کیا وجوہات تھیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل دو سو چار کے تحت کسی کو بھی استثنی نہیں ہے اور جو کوئی بھی توہین عدالت کرے گا اُس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

جمعے کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا کہ ایوان بالا یعنی سینیٹ میں اس نئے قانون پر ہونے والی بحث سے متعلق پیش کیے گئے ریکارڈ میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ توہین عدالت کے قانون کو تبدیل کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی اور موجودہ قانون آئین کی کن شقوں سے متصادم ہے۔