تیونس میں مظاہرین پر پولیس کا تشدد

تیونس میں پولیس نے حکومت مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ربر کی گولیوں اور آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔

سدی بوزید نامی قصبے میں مظاہرین معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے مظاہرے کر رہے ہیں۔

تیونس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق پانچ مظاہرین زخمی ہوئے ہیں جبکہ دو کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے مظاہرین کے خلاف کارروائی اُس وقت شروع کی جب انہوں نے صوبائی حکومت کے ہیڈ کواٹر میں گھسنے کی کوشش کی۔

سدی بوزید وہی قصبہ ہے جسے عرب دنیا میں شروع ہونے والی تبدیلی کی لہر کا جائے پیدائش کہا جاتا ہے۔ اِسی قصبے میں گزشتہ برس ایک نوجوان محمد بوعزیزی نے حکومتی رویے کے خلاف احتجاجاً اپنے آپ کو آگ لگا لی تھی جس کے بعد ملک بھر میں حکومت کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو بعد میں کئی عرب ممالک تک پھیل گیا۔