اسانژ کی گرفتاری کے لیے برطانوی ’دھمکی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 16 اگست 2012 ,‭ 22:58 GMT 03:58 PST

ایکواڈور کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے ’دھمکی‘ دی ہے کہ برطانوی حکام ان کےملک میں پناہ کے طالب وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کو گرفتار کرنے کے لیے ایکواڈور کے سفارتخانے میں داخل ہو سکتے ہیں۔

ریکارڈو پٹینو کا کہنا ہے کہ جولین اسانژ کی سیاسی پناہ کی درخواست پر فیصلہ جمعرات کو عام کر دیا جائے گا۔

جولین اسانژ نے سویڈن کے حکام کے حوالے کیے جانے سے بچنے کے لیے رواں برس جون میں لندن میں ایکواڈور کے سفارتخانے میں پناہ لی تھی۔

اسانژ کو سویڈن میں مجرمانہ جنسی حملے کے الزامات کا سامنا ہے جس سے وہ انکار کرتے ہیں۔

برطانوی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسانژ کی ملک بدری برطانیہ کی قانونی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔