’قبائلی خوف کے سائے میں جینے پر مجبور‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 07:19 GMT 12:19 PST

ایک امریکی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے عام شہریوں میں دہشت پھیلا رہے ہیں اور وہ مستقل خوف کے سائے میں زندگی گزرانے پر مجبور ہیں۔

رپورٹ کے مصنفین کے مطابق ڈرون حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کی امداد کرنے والوں کو بھی موقع پر ہی دوسرا ڈرون حملہ کر کے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ رپورٹ امریکہ میں نیویارک یونیورسٹی اور سٹینفورڈ یونیورسٹی کے محققین نے مرتب کی ہے اور اس میں ’مقامی افراد کے ساتھ تفصیلی انٹرویوز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان حملوں نے مقامی لوگوں کے معمولاتِ زندگی کو بری طرح سے متاثر کیا ہے اور لوگ خوف سے جنازوں میں بھی شرکت سے گریز کرتے ہیں۔

اسی حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان حملوں کے خوف سے بچوں کو سکولوں میں نہیں بھیجا جاتا یا ہلاکتوں کی وجہ سے کم ہو جانے والی آمدن میں اضافے کے لیے بچوں کو سکولوں کی بجائے محنت مزدوری پر لگا دیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پرواز کرتے ڈرون طیاروں کی آواز مقامی آبادی میں خوف کی علامت بن چکی ہے اور شہری شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اس کے علاوہ ان طیاروں کے حملوں میں املاک کی تباہی کی وجہ سے شہریوں کو معاشی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔