اصغر خان کیس: صدر کے دفتر کو فریق بنا لیا گیا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 4 اکتوبر 2012 ,‭ 08:02 GMT 13:02 PST

پاکستان کی سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی کی طرف سے سیاست دانوں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم سے متعلق مقدمے میں موجودہ صدرِ مملکت کے دفتر کو فریق بنانے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔

اس ضمن میں صدر کے پرنسپل سیکرٹری کو نوٹس بھی جاری کیا جائے گا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان کا عہدہ وفاق کی علامت ہوتا ہے اور ایوان صدر میں ایسے سیاسی سیل قائم ہونے سے اس ائینی عہدے پر اُنگلیاں اُٹھنا شروع ہوجاتی ہیں۔

عدالت نے اُس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے پرنسپل سیکرٹری روئیداد خان کو بھی فریق بنانے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور کرلی ہے۔ یہ دونوں درخواستیں پاکستانی فضائیہ کے سابق سربراہ ائرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی طرف سے دائر ہوئیں تھیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔