ونی کے واقعے کا ازخود نوٹس

آخری وقت اشاعت:  منگل 9 اکتوبر 2012 ,‭ 05:20 GMT 10:20 PST

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے قبائلی جھگڑے کے تصفیے میں لڑکیاں ونی کرنے کے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے حکام کو کارروائی کا حکم دیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں پیش آنے والے اس واقعے میں چار سال سے تیرہ سال کی عمر کی تیرہ لڑکیوں کو ونی کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی زیرِ سربراہی تین رکنی بینچ نے منگل کو کوئٹہ رجسٹری میں اس معاملے کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے حکام سے کہا کہ وہ اس واقعے کے ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق فوری کارروائی کریں۔

موقع پر موجود ڈیرہ بگٹی کے ڈپٹی کمشنر فیصل شاہ نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے مقامی تحصیلدار کو متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے پاس موجود اطلاعات کے مطابق ونی کی جانے والی لڑکیوں کی تعداد تیرہ نہیں بلکہ سات ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔