’پوری فوج کو الزام نہیں دیا جاسکتا‘

آخری وقت اشاعت:  پير 15 اکتوبر 2012 ,‭ 07:56 GMT 12:56 PST

پاکستان کی سپریم کورٹ نے آئی ایس آئی کی طرف سے سیاست دانوں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم سے متعلق مقدمے میں کہا ہے کہ کسی ایک شخص کی وجہ سے پوری فوج اور آئی ایس آئی کو الزام نہیں دیا جاسکتا۔

یہ بات مقدمے کی سماعت دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس میں کہی۔ اس مقدمے کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔

پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سابق سربراہ نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ انہوں نے سیاستدانوں کو رقوم صدرِ پاکستان اور آرمی چیف کے احکامات پر کی۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ انہوں نے ستر ملین کی رقم اس وقت کے صدرِ پاکستان غلام اسحٰق خان اور آرمی چیف جنرل اسلم بیگ کے احکامات پر تقسیم کی۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔