’سکولوں اور طلبہ کی سکیورٹی یقینی بنائی جائے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 19 اکتوبر 2012 ,‭ 08:20 GMT 13:20 PST

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ، اساتذہ، سکولوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی سکیورٹی کو یقینی بنائے۔

تنظیم نے جمعہ کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں مسلح گروہوں بشمول طالبان، القاعدہ پر بھی زور دیا ہے کہ وہ بچوں، اساتذہ اور سکولوں پر حملے نہ کریں۔

ہیومن رائٹس واچ کے بقول رواں سال پاکستان میں 96 سکولوں پر حملے کیے گئے۔ تنظیم کے مطابق جن سکولوں پر حملے کیے گئے ان میں سے زیادہ تر صوبہ خیبر پختونخوا اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں واقع ہیں۔

تنظیم کے مطابق مہمند ایجنسی میں چودہ، صوابی میں تیرہ، چارسدہ میں بارہ اور ضلع مردان میں گیارہ سکولوں پر حملے کیے گئے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان اور سندھ میں بھی سکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔