’قذافی کے ترجمان موسیٰ ابراہیم پکڑے گئے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 20 اکتوبر 2012 ,‭ 16:40 GMT 21:40 PST

لیبیا میں وزیراعظم کے دفتر کے مطابق سابق لیبیائی رہنما معمر قذافی کے ترجمان موسیٰ ابراہیم پکڑے گئے ہیں۔

وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق موسیٰ ابراہیم کو حکومتی سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت طرابلس سے کوئی پینسٹھ کلومیٹر دور ترہونہ سے گرفتار کیا ہے۔

تاہم لیبیائی حکام کے مطابق انہیں اس اطلاع پر شک ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی موسیٰ ابراہیم کے پکڑے جانے کے متعدد دعوے کیے گئے تھے جو بعد میں غلط ثابت ہوئے۔

وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے موسیٰ ابراہیم کی کوئی تصویر یا ویڈیو جاری نہیں کی ہے جس سے معلوم ہو سکے کہ وہ پکڑے گئے ہیں۔

وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’لیبیائی حکومت کی فورسز نے موسیٰ ابراہم کو توہونہ سے پکڑا ہے اور ان کو مزید تفتیش کے لیے طرابلس منعقد کیا جا رہا ہے۔‘

خیال رہے کہ لیبیا میں جنگ کے دوران موسیٰ ابراہیم باقاعدگی سے طرابلس کے ایک ہوٹل میں پریس کانفرس کیا کرتے تھے اور اس کو بڑی تعداد میں بین الاقوامی صحافی استعمال کرتے تھے۔

ان کو آخری بار اگست سال دو ہزار گیارہ میں طرابلس میں دیکھا گیا تھا۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔