تنازعے کے بعد بی بی سی میں کیا کچھ بدلے گا

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 02:09 GMT 07:09 PST

بی بی سی کو درپیش بحران کی گرد جب بیٹھے گی تو منظر خاصا بدل چکا ہوں گا۔ بی بی سی ٹرسٹ کے چیئرمین لارڈ پیٹن نے ادارے میں جوہری انتظامی تبدیلیاں لاگو کرنے کی بات کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بی بی سی میں چین کی کمیونسٹ پارٹی سے زیادہ سینیئر رہنما موجود ہیں۔

اس وقت بی بی سی کے طرزِ عمل کی چھان بین جاری ہے، اور خدشہ ہے کہ ڈائریکٹر جنرل جارج اینٹ وسل کے علاوہ کچھ اور لوگوں کو بھی نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔

ارکانِ پارلیمان پوچھ رہے ہیں کہ آیا یہ تنازع انفرادی مسئلہ ہے یا پھر ادارے کے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔

بتیس سالہ پروگرام نیوز نائٹ محدب عدسے کے نیچے ہے۔ اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے لارڈ میک الپائن کو غلط طور پر بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کا موردِ الزام ٹھہرانے کا اصل ذمے دار کون ہے۔

یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا نیوزنائٹ پروگرام اس تنازعے کی تاب لا سکتا ہے یا نہیں۔

اس سکینڈل کے بعد لوگ یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ آیا بی بی سی کا ادارہ ضرورت سے زیادہ طاقتور اور بڑا تو نہیں ہو گیا؟ حالیہ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ بی بی سی پر لوگوں کے اعتماد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

بی بی سی اس وقت زخمی اور کمزور ہے۔ عجیب ستم ظریفی ہے کہ اس سارے تنازعے کے پس منظر میں بھی جنسی بدسلوکی کا شکار زخمی اور کمزور بچے ہی ہیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔