توہین مذہب کیس: پرنسپل کی ضمانت منظور

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 05:33 GMT 10:33 PST

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس صغیر قادری نے توہین مذہب کے الزام میں گرفتار نجی سکول کے پرنسپل عاصم فاروقی کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

ہائی کورٹ نے یہ حکم عاصم فاروقی کی درخواست ضمانت عبوری طور منظور کرتے ہوئے دیا جس میں ملزم کی رہائی کی استدعا کی گئی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ عاصم فاروقی کو دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض جیل سے رہا کردیا جائے۔

لاہور پولیس نے راوی روڈ پر واقع نجی سکول کے پرنسپل عاصم فاروقی اور کی خاتون ٹیچر کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا تھا۔ خاتون ٹیچر پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک طالبہ کو ایسے پرچے کی فوٹو کاپی تقسیم کی جس پر توہین آمیز کلمات لکھ درج تھے۔

پولیس نے سکول کے پرنسپل عاصم فاروقی کو گرفتارکرلیا تھا جبکہ خاتون ٹیچر روپوش ہیں۔ ماتحت عدالت نے سکول پرنسپل کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی جس پر سکول کے پرنسپل نے اپنی رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

وکیل صفائی جواد اشرف کے مطابق ان کے موکل عمر ریسدہ ہیں اور عارضہ قلب میں متبلا ہے اس لیے ان کا جیل میں رہنا ان کی صحت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔

وکیل کے بقول عاصم فاروقی کا اس مقدمہ سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے اس لیے درخواست ضمانت منظور کی جائے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔