جنگی کردار کیلیے خواتین کا امریکی فوج پر مقدمہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 28 نومبر 2012 ,‭ 00:22 GMT 05:22 PST

امریکہ میں شہری حقوق کے ادارے نے جنگی کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت پر پابندی کے معاملے پر امریکی فوج کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

شہری حقوق کے ادارے نے یہ مقدمہ چار خواتین فوجیوں کی جانب سے دائر کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی غیر آئینی ہے۔

ادارے کے مطابق حالیہ برسوں میں ان پابندیوں میں جزوی نرمی تو کی گئی ہے لیکن امریکی فوج میں عورتوں کے لیے اب بھی میدانِ جنگ کی دو لاکھ سے زائد فوجی ملازمتوں پر پابندی ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں عورتوں کے لیے جنگی عہدوں کی پندرہ ہزار ملامتیں کھولی گئیں۔ بقول ان کے یہ اس عمل کا آغاز ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔