مصر میں اعلیٰ عدالت کا کام کرنے سے انکار

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 دسمبر 2012 ,‭ 17:01 GMT 22:01 PST

مصر میں اسلام پسند مظاہروں کے بعد اعلیٰ آئینی عدالت نے اعلان کیا ہے کہ نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے احتجاج کے طور پر غیر معینہ مدت کے لیے تمام عدالتی کارروائیوں کو روکا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے اسلام پسند مظاہرین نے قاہرہ میں ججوں کے اجلاس کو منعقد نہیں ہونے دیا تاکہ وہ مصر کے لیے بنائے گئے قانونی مسودے پر کوئی حکم جاری نہ کر دیں۔

جب مظاہرین نے ججوں کو عدالت کی عمارت میں داخل ہونے سے روک دیا تو اعلیٰ آئینی عدالت کی طرف سے ایک بیان جاری ہوا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق عدالت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ’جج عدالت کی کارروائیوں کو اس وقت تک روکنے کا اعلان کرتے ہیں جب تک وہ مقدمات میں بغیر کسی نفسیاتی یا دوسرے دباؤ کے فیصلے دے سکیں۔‘

اتوار کو ججوں کا کام نہ کرنے کا اعلان صدر محمد مرسی اور ان کے حمایتی اخوان المسلمین اور ان کے سیکولر سیاسی مخالفین اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی میں تازہ پیش رفت ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔