’ترکی کو میزائل شکن نظام نصب کرنے کی اجازت‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 دسمبر 2012 ,‭ 18:05 GMT 23:05 PST

برسلز میں نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد اعلان کیا گیا کہ ترکی شام کے ساتھ ملحق اپنی سرحد پر پیٹریئٹ میزائل شکن نظام نصب کرسکتا ہے۔

اس سلسلے میں برسلز میں ایک پریس کانفرنس اب سے کچھ دیر میں متوقع ہے جس میں اس اقدام کی تفصیلات کے بارے میں اعلان کیا جائے گا۔

اس سے پہلے شمالی اوقیانوس کے ممالک کے اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل آنرس فو راسموسن نے شامی حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ شامی شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال عالمی برادری کے لیے ناقابل قبول ہو گا۔

نیٹو ممالک کے اجلاس سے پہلے انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’کیمیائی ہتھیاروں کا ممکنہ استعمال عالمی برادری کے لیے ناقابلِ قبول ہو گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر کوئی ان خوفناک ہتھیاروں کے استعمال کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے عالمی برادری کی جانب سے فوری ردعمل کی توقع کرنی چاہیے۔‘

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔