ایجنسیوں کو ٹیلی فون ٹیپ کرنے کی اجازت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 دسمبر 2012 ,‭ 12:32 GMT 17:32 PST

پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک ایسا قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت چار سکیورٹی ایجنسیوں کو مشتبہ افراد کے ٹیلفون ٹیپ فون ٹیپ کرنے، ای میل کی نگرانی اور سی سی ٹی وی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شواہد اکٹھے کرنے کی اجازت ہو گی۔

ٹیکنالوجی کی نگرانی کے ذریعے حاصل کردہ معلومات کو عدالتوں میں بطور شہادت پیش کیا جا سکے گا۔

فیئر ٹرائل نامی بل جمعرات کو ایوان زیریں میں پیش ہوا۔ مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ نے اعتراض کیا اور کہا کہ بل میں خامیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون کے غلط اطلاق کو روکنے کے لیے ان کی پیش کردہ ترامیم شامل کی جائیں۔

حکومت نے تیس سے زائد ترامیم کے ساتھ یہ بل منظور کرا لیا۔ اس بل کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ عدالتوں میں الیکٹرانک آلات اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اکٹھے کردہ شواہد کو قانون شہادت کے تحت ٹھوس شواہد تسلیم کی جائے گا۔

بل کی منظوری کے بعد وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر یہ ایک تاریخی قانون منظور کرایا ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔