مسلح افواج اپنے نظریات ازسرِنو مرتب کریں

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 4 جنوری 2013 ,‭ 09:24 GMT 14:24 PST

پاکستان کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ملک کی تینوں مسلح افواج سے کہا ہے کہ وہ ملکی سلامتی کو لاحق اصل خطرات کا ادراک کرتے ہوئے اپنے نظریات (ڈاکٹرین) کو از سرِ نو مرتب کریں۔

جمعہ کو اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ ملکی سلامتی کو اصل خطرہ ان غیر ریاستی عناصر سے ہے جو پاکستانی ریاست اور اس کے اداروں اور علامتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کامیابی کے لیے حکمت عملی کی تبدیلی کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے مسلح افواج کو اپنے نظریات (ملٹری ڈاکٹرین) کو از سر نو مرتب کرنا ہو گا۔‘

اعلیٰ ترین حکومتی عہدیدار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی بری فوج نے انہی بنیادی خطوط کے پیش نظر اپنے نظریات (آرمی ڈاکٹرین) میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی کرتے ہوئے نیم روایتی جنگ کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔

ایک اہم فوجی افسر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی اس کی تقریر میں مخاطب صرف بری نہیں بلکہ مسلح افواج تھیں جن میں فضائی اور بحری افواج بھی شامل ہیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔