’فوج موجود مگر سکیورٹی کی صورتحال بدتر‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 15 جنوری 2013 ,‭ 00:00 GMT 05:00 PST

جنگ زدہ علاقوں کے بارے میں تحقیق کرنے والی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے علاقے سوات اور مالا کنڈ ڈویژن میں فوج انتظامی اور سکیورٹی کے اختیارات مکمل طور پر صوبائی حکومت کے حوالے کرے۔

خیبر پختونخوا کے علاقے سوات، دیر، چترال، کوہستان اور مالا کنڈ کے اضلاع صوبے کے زیرانتظام قبائلی علاقوں یا پاٹا میں شامل ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ پاٹا کو تین برس پہلے انتہاپسندی سے پاک کرنے کے لیےفوجی آپریشن کیا گیا مگر ان علاقوں میں فوج کی موجودگی کے باوجود سکیورٹی کی صورتحال بدتر ہے۔

تنظیم کے مطابق دو ہزار آٹھ اور نو میں انتہا پسند گروہ تحریک نفاذ شریعت محمدی اور مولوی فضل اللہ سے منسلک پاکستانی طالبان سوات اور ان علاقوں میں زیادہ مضبوط تھے اور وہ اب تک سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں پر حملے کر رہے ہیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔