افغان جیلوں میں تشدد عام ہے: اقوام متحدہ

آخری وقت اشاعت:  اتوار 20 جنوری 2013 ,‭ 15:55 GMT 20:55 PST

اقوام متحدہ ک کہنا ہے کہ افغانستان کی جیلوں میں زیرِ حراست افراد پر تشدد عام ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ٹیم نے پچھلے سال افغان جیلوں میں تشدد کے واقعات کو منظرِ عام پر لائی تھی۔

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں پولیس کے کنٹرول میں چھ جیلوں میں منظم طور پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دیگر جیلوں بشمول چند ان جیلوں کے جو افغان انٹیلیجنس سروس کے کنٹرول میں ہیں میں بھی تشدد کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی ٹیم نے چھ سو سے زیادہ زیر حراست افراد اور سابقہ قیدیوں سے انٹرویو کیے۔ ان میں سے آدھے سے زیادہ افراد نے کہا کہ ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ان افراد کے مطابق تشدد میں مار پیٹ، بجلی کے جھٹکے اور جنسی بدسلوکی شامل ہیں۔

تاہم افغان حکومت نے الزامات کی تردید کی ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔