90 ہزار افغانیوں کے پاس جعلی دستاویزات

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 فروری 2013 ,‭ 13:58 GMT 18:58 PST

پاکستان کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ گُزشتہ تین سے چار سال کے عرصے میں نوے ہزار افغان باشندوں نے غیر قانونی طریقے سے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کیے ہیں جن کی منسوخی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

سنیچر کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے اہلکار بھی ملوث ہیں جن کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ چند افراد کے غلط کام میں ملوث ہونے کا الزام پورے ادارے پر نہیں لگایا جا سکتا۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس سکینڈل کا انکشاف اُس وقت ہوا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جمعہ کی شب دو افراد کو حراست میں لیا جنہوں نے دورانِ تفتیش بتایا کہ اُنہوں نے ہزاروں افغان باشندوں کے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنوا کر دیے ہیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔