شامی حکومت اور باغیوں میں مذاکرات کی تجویز

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 فروری 2013 ,‭ 02:16 GMT 07:16 PST

روس اور عرب لیگ نے کہا ہے کہ وہ شام میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے حکومت اور حزبِ مخالف میں براہ راست مذاکرات کرانا چاہتے ہیں۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ تشدد ’کہیں لے کر نہیں جائے گا۔‘

یہ بات اس وقت کہی گئی ہے جب حزبِ مخالف کی جماعت سیریئن نیشنل کولیشن مصر میں دو روزہ اجلاس شروع کر رہی ہے جس میں ممکنہ حل کے ڈھانچے پر بات کی جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق مارچ دو ہزار گیارہ سے، جب سے صدر بشار الاسد کے اقتدار کے خلاف تحریک شروع ہوئی ہے، لے کر ابتک تقریباً ستر ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کہتے ہیں کہ اگرچہ شام کی حکومت اور حزبِ مخالف مذاکرات کے متعلق بات کر رہے ہیں، لیکن ایسا ہونا ابھی بہت دور کی بات لگتی ہے۔

روسی وزیرِ خارجہ نے ماسکو میں جہاں وہ عرب لیگ کے اہلکاروں اور عرب وزرائے خارجہ کی میزبانی کر رہے تھے، کہا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہی لڑائی روکنے کا واحد حل ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔