بنگلہ دیش: ہنگاموں میں 60 ہلاک

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 مارچ 2013 ,‭ 07:37 GMT 12:37 PST

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ایک ٹربیونل کی جانب سے جماعت اسلامی کے رہنما دلاور حسین کو سزائے موت دینے کے بعد جاری احتجاج اور ہنگاموں میں ہلاکتوں کی تعداد پچاس سے بڑھ گئی ہے۔ جبکہ سکیورٹی کی صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے فوج طلب کر لی گئی ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو ٹربیونل نے جماعت اسلامی کے رہنما دلاور حسین کو سنہ 1971 کی جنگ آزادی کے دوران جرائم میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔

اس فیصلے کے بعد جمعرات سے شروع ہونے والے پرتشدد واقعات میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

ملک کے مختلف حصوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید لڑائی ہوئی ہے۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے ضلع بوگرا میں اتوار کو پولیس چیک پوسٹوں پر حملے کیے جس کے بعد جھڑپوں میں ساتھ افراد ہلاک جبکہ چالیس کے قریب زخمی ہو گئے۔ ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے وہاں فوج تعینات کر دی گئی ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔