چینی منصوبہ قبول کرنا لازم ہے: سوچی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 13:35 GMT 18:35 PST

برما میں حزب اختلاف کی رہنما آنگ سان سوچی نے تانبے کی کان کے ایک منصوبے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین سے کہا ہے کہ یہ منصوبہ قبول کرنا لازمی ہے۔

برما کے شمالی علاقے مونی وا میں ہزار کے قریب رہائشیوں نے اس بڑے منصوبے کے خلاف مظاہرے میں اس کو بند کرنے کا مطالبہ کیا اور اس منصوبے پر پارلیمانی انکوائری کی رپورٹ کو قبول کرنے سے انکار کیا۔

یہ پارلیمانی انکوائری آنگ سان سو چی کی صدارت میں کی گئی تھی۔

مظاہرین کو اس بات پر بھی غصہ ہے کہ رپورٹ میں ان پولیس اہلکاروں کو سزا دینے کی تجویز شامل نہیں ہے جنہوں نے اس منصوبے کے خلاف کان کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ ختم کیے تھے۔ تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف ایسے دھواں دار بم استعمال کیے تھے جن میں فاسفرس شامل تھا۔ اس کارروائی میں احتجاج کرنے والے تقریباً سو افراد زخمی ہوئے تھے۔

آنگ سان سوچی نے اب مظاہرین سے کہا ہے کہ تانبے کی کان کا یہ منصوبہ اب ختم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے چین کو یہ تاثر ملےگا کہ برما پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ کوشش کریں گی کہ علاقے سے بے دخل ہونے پر مجبور ہونے والے رہائشیوں کو ملنے والے معاوضے میں اضافہ کروایا جائے۔

آنگ سان سوچی نے مزید کہا کہ لوگ اس منصوبے کے خلاف احتجاج کو اُن کے گھر کے باہر جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن پہلے ان کو اس کے لیے متعلق حکام سے اجازت لینی ہوگی۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔