توہین رسالت میں سزائے موت پانے والا شخص بری

لاہور ہائی کورٹ نے توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والے غیر مسلم یونس مسیح کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ یونس مسیح کی سزا کے خلاف اپیل کو منظور کرتے ہوئے دیا۔

لاہور کی مقامی عدالت نے یونس کو سال دو ہزار سات میں توہین رسالت کے مقدمے میں موت اور ایک لاکھ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

یونس مسیح نے اپنی سزا کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور جیل سے سزا کے خلاف اپیل دائر کی۔

صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے فیکڑی ایریا پولیس نے یونس مسیح کے خلاف نو نومبر دو ہزار پانچ کو دو سو پچانوے سی کے تحت توہین رسالت کا مقدمہ درج کیا تھا۔

چونتیس سالہ یونس مسیح پر الزام تھا کہ اس نے قوالی کے بارے میں ایسے سوالات کیے ہیں جو توہین رسالت کے زمرے میں آتے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے سامنے یونس مسیح کے وکیل نے یہ موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف ایک دن کی تاخیر سے مقدمہ درج کیا گیا اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

وکیل کے مطابق یونس مسیح کے خلاف کوئی براہ راست شہادت نہیں ہے بلکہ سنی سنائی باتوں پر الزامات لگائے گئے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ نے یونس مسیح کی اپیل منظور کرتے ہوئے سزائے اور جرمانے کو کالعدم قرار دے دیا اور اپیل کنندہ کو بری کا حکم دیا۔

اقلتیوں کے حقوق کے کام کرنےوالی تنظیم کے عہدیدار ندیم انتھونی ایڈووکیٹ نے عدالتی فیصلے کو سراہا۔