مظاہرین کی ہلاکتیں: حسنی مبارک کی حراست ختم کا فیصلہ

مصر کی عدالت نے سابق صدر حسنی مبارک کو مظاہرین کے قتل کے الزام میں حراست میں نہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔

تاہم عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ حسنی مبارک کو بدعنوانی کے مقدمات میں حراست میں رکھا جائے۔

واضح رہے کہ چوراسی سالہ حسنی مبارک نے سنہ 2011 میں مظاہرین کی ہلاکت کا ازسرِ نو مقدمے کی درخواست دائر کی ہوئی ہے۔

حسنی مبارک کے وکلاء نے عدالت سے کہا کہ وہ پہلے ہی عارضی حراست کے تحت جیل میں پوری مدت گزار چکے ہیں۔

پچھلے سال جون میں مظاہرین کی ہلاکت کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی لیکن اس سال جنوری میں مقدمے کی ازسرِ نو سماعت کا حکم دیا گیا تھا۔