سربجیت کی ہلاکت، یک رکنی ٹربیونل قائم

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال نے بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ کی جیل کے اندر ہلاکت کی تحقیقاتی کے لیے یک رکنی ٹربیونل تشکیل دیا ہے۔

ہائی کورٹ کا یک رکنی ٹربیونل جسٹس مظاہرہ علی اکبر نقوی پر مشتمل ہوگا اور سترہ مئی سے کارروائی شروع کرے گا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے تحقیقاتی ٹربیونل پنجاب حکومت کی درخواست پر تشکیل دیا ہے۔

سربجیت سنگھ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں گزشتہ بائیس برس سے قید تھے اور گزشتہ ماہ چھبیس اپریل کو جیل کے اندر دو قیدیوں نے ان پر حملہ کیا جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔

ایک ہفتے تک لاہور کے جناح ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد دو مئی کو سربجیت سنگھ دم توڑ گئے تھے اور پنجاب کے نگراں وزیر اعلیْٰ نجم سیٹھی نے بھارتی قیدی کی ہلاکت کی عدالتی تحقیقاتی کرانے کا اعلان کیا اور اس مقصد کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے تحقیقاتی ٹربیونل تشکیل دینے کی درخواست کی۔

ادھر مقامی میڈیا کے مطابق سربجیت سنگھ کی پاکستان میں پیروی کرنے والے وکیل اویس شیخ لاہور کے سرحدی علاقے سے لاپتہ ہوگئے تاہم بعد میں وہ لاہور شیخوپورہ بائی پاس سے بازیاب ہوئے۔