پاکستان کی طرف سے ’دہشت گردی‘ کے الزامات پھر مسترد

پاکستان نے افغانستان کے اس بیان کی سختی سے تردید کی ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں اور ملک میں کچھ عناصر دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے افغانستان کے سفیر ظاہر تنین کی طرف سے جمعرات کو سکیورٹی کونسل میں بحث کے دوران پاکستان پر لگائے گئے الزام کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے ’خطرناک‘ اور ’بری سفارت کاری‘ قرار دیا۔

مسعود خان نے کہا کہ ’دہشت گرد‘ پاک افغان سرحد کے دونوں طرف کارروائیاں کرتے ہیں اور اس سرحد پر آمد ورفت با آسانی ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ’پاکستان پر کیے جانے والے بہت سے حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین پر کی جاتی ہے اس لیے ہمیں پاک افغان سرحد کی سختی سے نگرانی کرنے کی ضرورت ہے۔‘