شدت پسندی کے مسئلے پر سیاسی قیادت کا اجلاس

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں شدت پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کل جماعتی کانفرس طلب کی ہے۔

بارہ جولائی کو طلب کیے جانے والے اس اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو دعوت دی جائے گی۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں ملک میں شدت پسندی ، امن و امان اور سکیورٹی صورتحال سے متعلق قومی حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے بات چت کی جائے گی۔

بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس اجلاس میں فوجی قیادت کو شرکت کی دعوت دی جائے گی یا نہیں۔

گیارہ مئی کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ نون کے دورِ حکومت میں کوئٹہ، پشاور اور شمالی علاقوں میں شدت پسندی کے واقعات رونما ہوئے ہیں اور ان میں شیعہ ہزارہ، غیر ملکی شہریوں ، طالب علموں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں ماضی میں بھی شدت پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اس طرح کے اجلاس منعقد ہو چکے ہیں لیکن شدت پسندی کے واقعات اسی طرح سے جاری ہیں اور اس ضمن میں کوئی ٹھوس اور واضح حکمت عملی بھی سامنے نہیں آ سکی ہے۔

یہ اجلاس اس لیے بھی اہم ہو گا کہ گیارہ مئی کے انتخابات میں دائیں بازو کی متعدد جماعتوں نے کامیابی حاصل کی ہے اور دیکھنا ہے کہ شدت پسندی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے آیا کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے کہ نہیں۔پاکستان میں شدت پسندی سے سب سےزیادہ متاثرہ ہونے والےصوبہ خیبر پختنوخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے جس کے سربراہ عمران خان طالبان شدت پسندوں سے بات چیت کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔