زندہ بن مانسوں کی عالمی تجارت اندازوں سے کہیں زیادہ

بن مانس، کاروبار تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بن مانسں کے غیر قانونی کاروبار کے حوالے سے جامع اعداد و شمار انتہائی کم ہیں

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بن مانسوں کی غیر قانونی خرید و فروخت موجودہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ تعداد میں ہوتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2005 سے اب تک 23 مختلف ممالک میں تقریباً 1800 بن مانس پکڑے گئے ہیں۔

ان میں سے 90 فیصد واقعات وہ ہیں جو ان ملکوں کے اندر ہی پیش آتے ہیں لیکن ان کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا ہے۔

یہ نئی تحقیق جوہانسبرگ میں سائٹس میٹنگ کے دوران شائع کی گئی ہے۔

بن مانسں کے غیر قانونی کاروبار کے حوالے سے جامع اعداد و شمار انتہائی کم ہیں۔

جنگلی جانوروں کے تحفظ کے لیے ہونے والے معاہدے جسے سائٹس کہا جاتا ہے کے تحت ہی بین الاقوامی سطح پر پکڑے جانے والے جانوروں کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اس سے غلط تاثر ملتا ہے۔

پکڑے جانے والے بن مانسوں کے بارے میں ان نئے اعداد و شمار سے ایک نئی تصویر سامنے آئی ہے جس میں 2005 کے بعد سے اب تک غیر قانونی طور پر پکڑے جانے والے ان جانوروں کا ڈیٹا شامل کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ UN-GRASP
Image caption حکام کے مطابق پکڑے جانے والے 67 فیصد جانوروں میں بڑی تعداد بن مانس کی ہے

دی گریٹ ایپ سروائیول پارٹنرشپ کے ڈگ کریس کا کہنا ہے کہ ’واضح طور پر یہ اعداد و شمار ہماری امید سے کہیں زیادہ ہیں۔‘

ان کا مزید کہا ہے کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر میں ایک ہفتے کے دوران اوسطاً دو بن مانس پکڑے جاتے ہیں۔ شاید یہ اعداد کم لگ رہے ہوں لیکن عام تناسب کچھ یوں ہے کہ آپ کو ایک چمپینزی پکڑنے کے لیے پانچ یا دس کو مارنا پڑتا ہے جبکہ ایک گوریلے کو پکڑنے کے لیے چار میں سے تین کو مارنا پڑتا ہے۔‘

’اس طرح تو جنگلوں میں بڑی تعداد میں بن مانس مارے جا چکے ہوں گے۔‘

حکام کے مطابق پکڑے جانے والے 67 فیصد جانوروں میں بڑی تعداد بن مانسوں کی ہے۔

اس غیر قانونی کاروبار میں اضافے کی بڑی وجہ پیسہ ہے، ایشیا میں ایک چمپینزی 25 سے 30 ہزار ڈالر کے درمیان فروخت ہوتا ہے جبکہ ایک گوریلا 45 ہزار ڈالر تک میں فروخت ہو تا ہے۔

اسی بارے میں