امریکہ مریخ پر انسان بھیجنے کے لیے نجی کمپنیوں کے ساتھ کام کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

امریکی صدر براک اوباما کے مطابق امریکہ 2030 تک مریخ پر انسانوں کو بھیجنے کے منصوبے کے لیے نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

صدر اوباما نے 2010 میں سرخ سیارے پر انسانی مشن بھیجنے کی تجاویز کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس وقت صدر اوباما کے منصوبے پر بالخصوص کانگریس کی جانب سے خاصی تنقید ہوئی تھی۔

یورپی خلائی جہاز کو مریخ پر گرد کے طوفان کا سامنا

صدر اوباما نے امریکی ٹیلی ویژن سی این این کے لیے لکھے جانے والے ایک مضمون میں مریخ پر انسانی مشن کے لیے نجی کمپنیوں کی شراکت داری کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا: 'ہم نے ایک واضح ہدف مقرر کیا ہے جو خلا میں امریکی تاریخ کی کہانی کے آئندہ باب کے لیے نہایت اہم ہے، جس میں 2030 تک انسانوں کو مریخ پر بھیجنا اور پھر وہاں سے واپس زمین پر بحفاظت پہنچانا ہے۔ اس میں فیصلہ کن جذبہ یہ ہے کہ کسی دور میں وہ وہاں لمبے عرصے تک قیام کریں۔'

صدر اوباما کے نجی کمپنیوں کی شراکت سے مریخ پر جانے کا بیان حیران کن نہیں ہے کیونکہ اس وقت امریکی خلائی ادارہ ناسا نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے جس میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن کو سامان کی ترسیل شامل ہے۔

اس میں خاص کر سپیس ایکس نامی کمپنی شامل ہے جس کا ڈریگن نامی خلائی جہاز بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر سامان پہنچا چکا ہے اور وہ مریخ تک جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے مضمون میں مزید لکھا: 'مریخ تک پہنچنے کے لیے ہمیں تسلسل سے حکومت اور جدت کے لیے کام کرنے والے نجی شعبے کے درمیان تعاون درکار ہے اور ہم پہلے ہی درست راستے پر ہیں۔'

اسی بارے میں