چینی خلاباز اپنے سب سے لمبے سفر پر روانہ

لانگ مارچ 2 ایف راکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لانگ مارچ 2 ایف راکٹ کے ذریعے چین اپنے دو خلابازوں کو پیر کو اپنے خلائی مشن کے لیے روانہ کیا

چین نے سوموار کو پہلی مرتبہ دو خلابازوں کو مدار میں بھیج ہے تاکہ خلا کے بارے مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔

یہ خلاباز شمالی چین کے جیکوان لانچ سینٹر سے آج صبح روانہ ہوئے۔

وہ تجرباتی ٹیانگونگ 2 نامی خلائی سٹیشن پر پہنچ کر وہاں 30 دن تک قیام کریں گے۔ یہ چینی خلابازوں کے لیے سب سے زیادہ مدت تک خلا میں رہنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔

یہ اور اس سے قبل خلا میں جانے کے واقعات اس بات کا اشارہ ہیں کہ چین مستقبل میں ممکنہ طور پر چاند اور مریخ پر اپنا انسانی مشن روانہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

اس سے قبل روانہ کیے جانے والے ٹیانگونگ یا 'آسمانی محل' سپیس سٹیشن کو رواں سال کے اوائل میں ختم کر دیا گیا تھا۔

بہر حال حالیہ مشن کے خلابازوں میں 49 سالہ جنگ ہیپنگ شامل ہیں جو اس سے قبل دو بار خلائی سفر پر جا چکے ہیں۔ ان کے ساتھ اس مشن پر 37 سالہ چینگ ڈونگ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 49 سالہ جنگ ہیپنگ پہلے بھی دو بار خلائی مشن پر جا چکے ہیں

یہ دونوں مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات بجے شینزو 11 خلائی جہاز سے روانہ ہوئے جسے لانگ مارچ 2 ایف راکٹ سے لانچ کیا گیا۔

اپنے پیغام تہنیت میں چین کے صدر شی جنپنگ نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ 'وہ دونوں خلائی سفر کی روح کو بہت ترقی فراہم کریں گے۔'

انھوں نے مزید کہا 'اس مشن سے چین کو خلا کی بازیافت میں وسیع تر اور مزید اقدام کی صلاحیت پیدا ہوگی اور چین کو خلائی قوت بنانے میں نئي مدد ملے گي۔'

چین نے اپنے خلائی پروگرام میں بہت فنڈز اور توانائی صرف کی ہے اور رواں سال وہ کم از کم 20 خلائی مشن روانہ کرنا چاہتا ہے۔

اس نے پہلے ہی خلا میں 'چہل قدمی' کر رکھی ہے اور یہ روس اور امریکہ کے بعد پہلا ملک ہے جو انسانوں پر مشتمل اپنا مشن خلا میں بھیج چکا ہے۔

سنہ 2013 میں چین نے کامیابی کے ساتھ اپنا غیر انسانی یوٹو خلائی مشن چاند پر بھیجا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں