چین کا خلائی مشن ٹیانگونگ 2 پر اتر گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شانزو 11 مقامی وقت کے مطابق تین بجکر چوبیس منٹ پر ٹیانگونگ 2 خلائی سٹیشن پر اترا۔

چین کا خلائی مشن شانزو 11 دو خلابازوں کو لے کر ٹیانگونگ 2 نامی خلائی سٹیشن پر اتر گیا ہے۔ اس مشن کا مقصد چین کی خلائی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

شانزو 11 پیر کے روز شمالی چین سے روانہ ہوا تھا اور منگل کے روز چین کے مقامی وقت کے مطابق علی الصبح تین بجکر چوبیس منٹ پر ٹیانگونگ 2 خلائی سٹیشن پر اترا۔

چینی خلاباز جنگ ہیپنگ اور چینگ ڈونگ اگلے 30 روز خلائی سٹیشن میں رہ کر مختلف تجربات کریں گے۔

یہ چینی خلا بازوں کا طویل ترین خلائی مشن ہے۔ جس وقت خلائی مشن ٹیانگونگ 2 خلائی سٹیشن پر اترا اس وقت وہ زمین سے 244 میل کی بلندی پر تھا اور چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق خلائی مشن کے اترنے کا عمل تقریباً دو گھنٹے میں مکمل ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شانزو 11 پیر روز شمالی چین سے روانہ ہوا تھا۔

چین نے اپنے خلائی پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے بڑے بڑے منصوبے بنا رکھے ہیں جن میں خلا میں ایک مستقل سٹیشن کی موجودگی، چاند اور مریخ پر خلائی بازوں کی روانگی اور دنیا کی سب سے بڑی دوربین کی ترقی جیسے منصوبے شامل ہیں۔

چین کے خلائی پروگرام پر ہونے والے ممکنہ اخراجات اربوں بلکہ کھربوں ڈالروں میں ہو سکتے ہیں لیکن چین میں عام شہری اس بارے میں شکایت کرتے نظر نہیں آتے۔

خلا میں اپنی موجودگی کے دوران چینی خلاباز جو تجربات کریں گے ان میں چاول اور آبی سلاد کی کاشت بھی شامل ہے۔ وہ الٹراساؤنڈ کے ذریعے اپنے جسموں کی کارکردگی کا جائزہ بھی لیں گے۔

چین روس اور امریکہ کے بعد پہلا ملک ہے جو انسانوں پر مشتمل اپنا مشن خلا میں بھیج چکا ہے۔ شانزو 11 سے پہلے چین پانچ مشن خلا میں بھیج چکا ہے۔ سنہ 2013 مین چین نے کامیابی کے ساتھ اپنا غیر انسانی یوٹو خلائی مشن چاند پر بھیجا تھا۔

اس سال چین 20 مشن خلا میں بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسی بارے میں